Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کا متنازع بیان، ’یہ تحریکِ انصاف کا موقف نہیں‘

سابق وزیراعظم اور بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے ایک نشر نہ ہونے والی پوڈ کاسٹ میں دیے گئے متنازع بیان نے ملک بھر کے سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ 
یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ایک پوڈ کاسٹ میں ریکارڈ کی گئی گفتگو کا کچھ حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
اس کے بارے میں نورین نیازی کا دعویٰ ہے کہ انٹرویو سے قبل اور بعد میں یہ طے پا چکا تھا کہ اسے آن ایئر نہیں کیا جائے گا اور ایڈٹ کر کے حذف کر دیا جائے گا۔ 
اس بیان میں نورین نیازی نے پاک انڈیا جنگ کو ’طے شدہ ڈرامہ‘ اور ڈیل کا نتیجہ قرار دیا۔ اس بیان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی جیسے بھونچال آگیا۔ 
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ 
ایجنسی کی جانب سے نورین نیازی کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا، تاہم وہ طے شدہ تاریخ اور وقت پر این سی سی آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔ 
انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے این سی سی آئی کو بتایا کہ ’وہ ملک سے باہر ہیں اس لیے انکوائری کے لیے پیش نہیں ہو سکتیں۔‘
 اس کے ساتھ ساتھ این سی سی آئی اے نے اس پوڈ کاسٹ میں میزبانی کرنے والے نوجوان صحافی احتشام اللہ بہیلم کو بھی تفتیش کے دائرے میں لاتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ پوڈ کاسٹ چند ماہ قبل لاہور میں ایک یوٹیوب چینل کے لیے ریکارڈ کی گئی۔
 اس معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور خان فیملی کے دو مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ بیان وائرل ہونے کے چند روز بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’نورین نیازی کا یہ بیان ان کا بالکل ذاتی موقف ہے۔ اس سے پارٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘ 
اسی تسلسل میں پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کا دفاعی امور اور قومی سلامتی پر موقف بالکل واضح اور آئینی ہے، نورین نیازی کی رائے کو کسی صورت پاکستان تحریک انصاف کا باضابطہ موقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
تاہم، ایک طرف جہاں پارٹی کی مرکزی قیادت اس بیان سے مسلسل لاتعلقی کا اظہار کر کے سیاسی اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے عمران خان کی دوسری ہمشیرہ علیمہ خان کا ایک وضاحتی ویڈیو بیان  بھی منگل کی شام جاری کیا گیا۔
 اس ویڈیو بیان میں علیمہ خان نے نورین نیازی کے بیان کی تردید کرنے کے بجائے ان کا دفاع کیا اور کہا کہ ’وہ جو بات ہو رہی تھی وہ ایک غیر رسمی ماحول میں اور گھر کے اندر ہو رہی تھی، اور گھروں کے اندر سب اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔‘
’اصل مسئلہ کسی کی گفتگو نہیں بلکہ یہ ہے کہ گھر کے اندر کی بات اور آف دی ریکارڈ ویڈیو کو کس نے وائرل کیا۔ حکومت کو چاہیے کہ ویڈیو لیک کرنے والوں کو پکڑے نہ کہ اس پر بلاجواز قانونی کارروائی کی جائے۔‘
خیال رہے کہ فوج سے متعلق ایک متنازع بیان پر جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی کئی روز سے حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کی تنقید کی زَد میں رہے ہیں۔
اسی طرح نورین نیازی کے بیان نے بھی تحریک انصاف کے لیے وہی صورت حال پیدا کی ہے۔ اور ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ موثر اپوزیشن کے لیے جے یو آئی اور تحریک انصاف کے درمیان رابطے بھی دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔ یہی سوال جب علیمہ خان سے منگل کو صحافیوں نے کیا تو انہوں نے اس کا واضح جواب نہیں دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نورین نیازی کے اس بیان پر پارٹی کی سطح اور عمران خان کی فیملی کی حد تک مختلف آرا سے یہ تاثر بھی گہرا ہوا ہے کہ پارٹی کافی حد تک اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔
 

شیئر: