ہڑتال موخر کرنے پر اختلاف، بعض شہروں میں پیٹرول پمپس بند ہونا شروع
ہڑتال موخر کرنے پر اختلاف، بعض شہروں میں پیٹرول پمپس بند ہونا شروع
بدھ 22 جولائی 2026 18:30
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پیٹرول پمپ مالکان نے بدھ اور جمعرات کی درمیاتی رات 12 بجے سے پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی دی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ہڑتال کی کال موخر کرنے کے اعلان پر پیٹرولیم ڈیلرز اور پمپ مالکان دو گروپس میں تقسیم ہو گئے۔
ہڑتال موخر کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی ایک گروپ نے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس احتجاجاً بند کرنا شروع کر دیے۔
ایسوسی ایشن میں اندرونی تقسیم اس وقت سامنے آئی جب چیئرمین ہمایوں خان کی سربراہی میں پیٹرول پمپ مالکان کے ایک بڑے گروپ نے حکومت کی یقین دہانیوں کو مسترد کرتے ہوئے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز اور پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بدھ اور جمعرات کی درمیاتی رات 12 بجے سے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس بند کرنے کی کال واپس لے لی گئی تھی۔
بدھ کی شام اسلام آباد میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیدران کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال کی کال واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈیلرز اور پیٹرول پمپ مالکان سے دو ہفتوں کی مہلت مانگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ساتھ مل کر ڈیلرز کے تمام تحفظات دُور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ڈیلرشپ مارجن پر ایک سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیجی جائے گی، جبکہ ڈیزل کے مارجن سے جُڑے مسائل کو آئندہ دو ہفتوں میں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
وائس چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن راجا وسیم کا کہنا تھا کہ ڈیلرز سخت حالات سے مجبور ہو کر ہڑتال پر مجبور ہوئے تھے۔
آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز اور پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیر پیٹرویم سے مذاکرات کے بعد ہڑتال کی کال واپس لی (فائل فوٹو: اے پی پی)
انہوں نے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلے دو ہفتوں کے اندر ان کے تمام مسائل حل کر لیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز اور پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بدھ اور جمعرات کی درمیاتی رات 12 بجے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی مکمل بندش کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس سے قبل بدھ کو حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان بات چیت کا نتیجہ نہ نکلنے پر تمام پمپ مالکان کو آج رات سے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معطل کرنے کے لیے مطلع کر دیا گیا تھا۔
تاہم وفاقی دارالحکومت میں وزارتِ پیٹرولیم اور ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے درمیان مذاکرات کے تین دور چلے، جس کے بعد بالآخر فریقین نے احتجاج کو دو ہفتوں کے لیے موخر کرنے اور مسائل کے باہمی حل پر اتفاق کر لیا۔
احتجاج کی کال کیوں دی گئی تھی؟
آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز اور پمپ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی بنیادی وجہ ڈیلرشپ مارجن میں کمی اور پمپس کے مسلسل بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات تھے۔
چیئرمین ہمایوں خان کی سربراہی میں پیٹرول پمپ مالکان کے ایک بڑے گروپ نے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
ڈیلرز کا کہنا تھا کہ بجلی کے بھاری بلوں، مہنگائی اور دیگر اخراجات کے باعث موجودہ منافع پر کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا، لہٰذا فی لیٹر پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں فوری اضافہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر ڈیلرز مارجن 8 روپے 24 پیسے ہے، جبکہ ایسوسی ایشن نے اسے بڑھا کر 24 روپے کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
آئندہ نشستوں میں حکومت ’اوگرا‘ حکام کے ساتھ مل کر اس کا جائزہ لے گی تاکہ ڈیلرز کے منافعے میں باقاعدہ اضافے کا تعیّن کیا جا سکے۔
علاوہ ازیں پیٹرولیم ڈیلرز اور پمپ مالکان نے حکومت کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں طے کرنے کے اقدام کو بھی مسترد کرتے ہوئے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے قبل ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ روزمرہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی ان کے کاروبار کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔