Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تین ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

پولیس کے مطابق ملزمان کو اسلحے کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ ساتھیوں نے فائرنگ کر دی (فوٹو: پولیس ڈیپارٹمنٹ)
کراچی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل ہونے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے کیس میں گرفتار تین ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو بدھ کی صبح ساتھیوں کی گرفتاری اور اسلحہ برآمد کرنے کے لیے گلشن معمار لے جایا گیا تھا، جہاں ان کے ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کردی اور جوابی کارروائی میں گرفتار ملزمان بھی زخمی ہوئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔
 سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان میں سریش کمار، رام چند اور انیل کمار شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ان کو ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تفتیش کی جا رہی تھی۔
پولیس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
ڈاکٹر آکاش کا قتل، جس نے شہر  بھر کو افسردہ کیا
چند روز قبل کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں پیش آنے والے اس واقعے نے پورے شہر کو افسردہ  کردیا تھا۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر آکاش اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے جب مسلح افراد نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کردی، جس سے ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہو گئے۔
انہیں فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی نہ صرف طبی حلقوں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
واقعے کے بعد کراچی میں ایک مرتبہ پھر سٹریٹ کرائمز، شہریوں کے تحفظ اور پولیس کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر شہر کے مصروف اور حساس علاقوں میں بھی لوگ محفوظ نہیں تو عام شہری کس حد تک خود کو محفوظ سمجھ سکتے ہیں۔

چند روز قبل ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے پریس کانفرنس میں ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

احتجاج، دباؤ اور پولیس کی کارروائی

ڈاکٹر آکاش کے قتل کے بعد ان کے اہل خانہ، ساتھی ڈاکٹروں، ہندو برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کراچی کے علاقے تین تلوار پر احتجاج کیا۔
مظاہرین نے میت سڑک پر رکھ کر قاتلوں کی فوری گرفتاری اور شہر میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز کے خاتمے کا مطالبہ کیا جس سے
 کئی گھنٹوں تک ٹریفک متاثر رہی۔
بعدازاں کراچی کے میئر مرتضی وہاب اور دیگر حکام نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
چند روز قبل ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تین ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزمان سے اہم معلومات حاصل ہوئیں، جن کی بنیاد پر ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری تھیں۔

ڈاکٹر آکاش کو چند روز قبل ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کر دیا گیا تھا (فوٹو: سی سی ٹی وی)

ڈاکٹر آکاش کون تھے؟

28 سالہ ڈاکٹر آکاش جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے ساتھی انہیں ایک باصلاحیت، خوش اخلاق اور انتہائی محنتی نوجوان ڈاکٹر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ اپنے مریضوں کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ مستقبل میں سرجری کے شعبے کی تعلیم حاصل کرکے ایک کامیاب سرجن بنیں۔
ان کا کیریئر ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا مگر ان کے اساتذہ اور ساتھیوں کو یقین تھا کہ وہ مستقبل میں طب کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔
ڈاکٹر آکاش کا تعلق سندھ کے ایک معروف ہندو کاروباری خاندان سے تھا۔
ان کا آبائی تعلق رانی پور کے قریب واقع جھنڈکو سے تھا، جبکہ ان کے خاندان کے افراد سندھ کے دیگر شہروں میں بھی آباد ہیں۔
ان کے والد شری چند مل نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آکاش خاندان کی امیدوں کا مرکز تھا وہ اپنی محنت سے ایک کامیاب ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، مگر ایک لمحے میں سب کچھ ختم ہو گیا۔‘

واقعے کے بعد کراچی میں ایک مرتبہ پھر سٹریٹ کرائمز، شہریوں کے تحفظ اور پولیس کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات کراچی کے گارڈن شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں، جہاں اہل خانہ، عزیز و اقارب، ساتھی ڈاکٹروں، دوستوں اور ہندو برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر بھی شہر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ دوہرایا گیا۔

’انسداد جرائم کی حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے‘

جامعہ کراچی کے شعبہ جرمیات کی سربراہ ڈاکٹر نائمہ سعید کے مطابق کراچی میں سٹریٹ کرائمز مسلسل ایک بڑا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر اب شہر کے تقریبا ہر علاقے میں بلاخوف کارروائیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ’صرف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ایسے جرائم کی وجوہات، پولیسنگ کے نظام اور انسدادِ جرائم کی حکمت عملی پر بھی سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تین ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد اگرچہ پولیس کا مؤقف یہی ہے کہ مرکزی ملزمان انجام کو پہنچ چکے ہیں، تاہم اس کارروائی کے باوجود کراچی میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز، شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام سے متعلق سوالات بدستور موجود ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات بھی جاری ہیں۔

شیئر: