Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

راہُل گاندھی رہا، سی جے پی کا احتجاج جاری، مظاہرین اور پولیس میں رات بھر جھڑپیں

کاکروچ پارٹی پیپر لیک سکینڈل کے بعد وزیراعظم اور وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)
کانگریس کے رہنما اور انڈین پارلیمان میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو دہلی پولیس نے رہا کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری ہے اور رات بھر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کو منگل کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی سے یکجہتی کے طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا تھا، تاہم پریانکا گاندھی کو تھوڑی دیر بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔
گرفتاری کے وقت کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی اور دوسرے رہنماؤں کو پولیس زبردستی ہٹاتے ہوئے ساتھ لے جاتی ہے جبکہ ان کے ساتھ موجود دوسرے افراد کو بھی زبردست ہٹایا جاتا ہے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج منگل اور بدھ کی درمیانی رات بھی جاری رہا، مظاہرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، اس واقعے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
احتجاج کے موقع پر ’آزادی آزادی‘ کے نعرے بھی لگے جس کو پارٹی رہنماؤں کی جانب سے دوہرانے سے منع کیا گیا۔
بعدازاں سی جے پی کے ترجمان اشوتوش رانکا نے بیان میں کہا کہ ’شہید بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی ہمیں پہلے ہی آزادی دلا چکے ہیں اس لیے ہمیں بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگانے چاہییں۔‘
انڈیا میں احتجاج کی لہر جاری ہے جس کا آغاز حال ہی میں وجود میں آنے والی نوجوانوں پر مشتمل جماعت نے امتحانی نظام سے متعلق متعدد سکینڈلز کے بعد سامنے آنے کے بعد کیا۔
گزشتہ ماہ سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ کیے گئے امتحان کے بعد 22 لاکھ میڈیکل کے امیدواروں نے سخت سکیورٹی میں دوبارہ امتحان دیا۔
اس سے قبل تقریباً 20 لاکھ ہائی سکول کے طلبہ کے امتحانات کی آن لائن مارکنگ سے متعلق ایک اور سکینڈل بھی سامنے آیا تھا۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل کو حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بعد حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے منگل کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ بند کمرہ اجلاس میں مستقبل میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے ’مکمل طور پر محفوظ اور ناقابلِ نقائص نظام‘ بنانے پر زور دیا۔
چند ماہ قبل وجود میں آنے والی اس جماعت کی احتجاجی تحریک اور پارلیمان کی طرف مارچ کو وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جماعت سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی رکھتی ہے جبکہ ملک بھر میں سیاسی میدان میں بھی عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

شیئر: