دہلی میں کاکروچ پارٹی کا احتجاج جاری، پولیس سے رات بھر جھڑپیں، راہُل گاندھی رہا
دہلی میں کاکروچ پارٹی کا احتجاج جاری، پولیس سے رات بھر جھڑپیں، راہُل گاندھی رہا
بدھ 22 جولائی 2026 6:20
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے اور رات بھر پولیس و مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں جبکہ وزیراعظم کے گھر کے باہر سے گرفتار کیے گئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو رہا کر دیا گیا ہے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کو منگل کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی سے یکجہتی کے طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا تھا، تاہم پریانکا گاندھی کو تھوڑی دیر بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔
گرفتاری کے وقت کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی اور دوسرے رہنماؤں کو پولیس زبردستی ہٹاتے ہوئے ساتھ لے جاتی ہے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج منگل اور بدھ کی درمیانی رات بھی جاری رہا، مظاہرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، ان واقعات میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
انڈیا میں اس وقت احتجاج کی لہر جاری ہے جس کا آغاز حال ہی میں وجود میں آنے والی نوجوانوں پر مشتمل جماعت نے امتحانی نظام سے متعلق متعدد سکینڈلز سامنے آنے کے بعد کیا تھا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب مئی میں نیشنل میڈیکل کالج کے داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہوئے تھے جس کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور ان کو دوبارہ امتحان دینا پڑا تھا۔
کاکروچ پارٹی نے پیپر لیک سکینڈل کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)
اس سے قبل تقریباً 20 لاکھ ہائی سکول کے طلبہ کے امتحانات کی آن لائن مارکنگ سے متعلق ایک اور سکینڈل بھی سامنے آیا تھا۔
چند ماہ قبل وجود میں آنے والی اس جماعت کی احتجاجی تحریک اور پارلیمان کی طرف مارچ کو وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جماعت سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی رکھتی ہے جبکہ ملک بھر میں سیاسی میدان میں بھی عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کو شروع میں زیادہ تر حمایت سوشل میڈیا پر حاصل ہوئی اور چند روز میں ہی اس کے فولوورز کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ تک پہنچی، بعدازاں جماعت نے اپنا دائرہ مزید وسیع کیا اور اسے بعض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہوئی۔