کیا ذہنی دباؤ واقعی انسان کی نظر کو کمزور کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے؟
کیا ذہنی دباؤ واقعی انسان کی نظر کو کمزور کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے؟
ہفتہ 5 ستمبر 2026 7:32
طویل عرصے تک ذہنی دباؤ آنکھوں، پیشانی اور گردن کے پٹھوں میں تناؤ پیدا کرتا ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
ذہنی دباؤ کے دوران بعض افراد کو نظر دھندلی ہونے، آنکھوں میں جھلملاہٹ یا توجہ مرکوز کرنے میں دُشواری محسوس ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سٹریس واقعی بینائی کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم ہر علامت کو محض ذہنی دباؤ قرار دینا درست نہیں ہے۔
’این ڈی ٹی وی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ذہنی دباؤ سے متعلق آنکھوں کی سب سے عام علامت پلکوں کا غیر ارادی طور پر پھڑکنا ہے، جسے طبی زبان میں مایوکیمیا کہا جاتا ہے۔ اس کی عام وجوہات میں سٹریس، نیند کی کمی، کیفین کا زیادہ استعمال اور طویل وقت تک سکرین دیکھنا شامل ہیں۔ یہ کیفیت عموماً خطرناک نہیں ہوتی اور آرام و مناسب نیند سے بہتر ہو جاتی ہے۔
شدید ذہنی دباؤ جسم کے ’فائٹ یا فلائٹ‘ ردِعمل کو متحرک کرتا ہے، جس سے آنکھوں کی پُتلیاں پھیل سکتی ہیں اور بینائی کی وضاحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹریس آنکھوں میں نمی برقرار رکھنے والے آنسوؤں کے معیار کو متاثر کرتا ہے، جبکہ سکرین یا توجہ والے کام کے دوران پلکیں جھپکنے کی رفتار بھی کم ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی خشکی کے باعث نظر عارضی طور پر دُھندلی محسوس ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ذہنی دباؤ آنکھوں، پیشانی اور گردن کے پٹھوں میں تناؤ پیدا کرتا ہے، جس سے پڑھنے اور قریب کی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
تاہم ایک ایسی بیماری بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، جسے سینٹرل سیروس ریٹینوپیتھی (سی ایس آر) کہا جاتا ہے۔ اس میں آنکھ کے پردۂ بصارت، یعنی ریٹینا، کے نیچے رطوبت جمع ہو جاتی ہے، جس کے باعث نظر میں سیاہ یا سرمئی دھبہ، دُھندلا پن اور سیدھی لکیروں کا ٹیڑھا یا لہراتا ہوا دکھائی دینا شامل ہے۔
یہ بیماری اکثر شدید دباؤ میں رہنے والے افراد میں دیکھی جاتی ہے اور سٹیرائیڈ ادویات کا استعمال بھی اس کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند، آرام، سکرین سے وقفہ اور ذہنی دباؤ میں کمی آنکھوں کی علامات کو بہتر بنا سکتی ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
بعض افراد سٹریس کے دوران چمکتی روشنیاں، زگ زیگ لکیریں یا عارضی اندھے دھبے بھی دیکھتے ہیں، جو اکثر بصری آورا یا اوکیولر مائیگرین کی علامت ہو سکتے ہیں۔ یہ کیفیت عموماً 20 سے 30 منٹ میں ختم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند، آرام، سکرین سے وقفہ اور ذہنی دباؤ میں کمی آنکھوں کی علامات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ سکرین استعمال کرتے ہوئے 20-20-20 اُصول اپنانا بھی مفید ہے۔
تاہم اگر نظر اچانک متاثر ہو، مسئلہ صرف ایک آنکھ میں ہو، سیدھی لکیریں ٹیڑھی دکھائی دیں یا نظر میں سیاہ دھبہ محسوس ہو تو اسے صرف سٹریس سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر آنکھوں کے ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔