’مقررین نہیں بلکہ مفکرین‘: جدہ تاریخیہ میں طلبہ کے لیے مباحثے کا کیمپ
’مقررین نہیں بلکہ مفکرین‘: جدہ تاریخیہ میں طلبہ کے لیے مباحثے کا کیمپ
بدھ 29 جولائی 2026 9:08
کیمپ کے لیے 24 شرکا منتخب ہوئے جنھیں چھ ٹیموں میں تقسیم کیا گیا (فوٹو: عرب نیوز)
جدہ تاریخیہ میں تنقیدی سوچ، استدلال کے فن اور خطابت کی مہارت کو بہتر بنانے کے لیے مناظرے کے ایک نئے کیمپ کے تحت مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اکٹھے ہوئے ہیں جس سے تعمیری مکالمے کا کلچر فروغ پائے گا۔
یہ کیمپ جسے ’مناظرہ کیمپ‘ کا نام بھی دیا گیا ہے، وصل کلچرل سینٹر اور سعودی سینٹر برائے فلسفہ اور اخلاقیات یا سکوپ (SCOPE) کا مشترکہ انیشیٹیو ہے جو بیت الشربتلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ اِس کے سیشن ہر پیر اور بدھ کو ہوا کریں گے اور 12 اگست تک جاری رہیں گے۔
کیمپ میں نظریاتی تعلیم اور عملی مباحثے کے راؤنڈز ہوں گے جو مباحثے کے عالمی مقابلوں کے معیار کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں۔ ان سیشنز سے شرکا کو فکری اور اخلاقی دونوں پہلوؤں کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
کیمپ کے لیے 24 شرکا منتخب ہوئے جنھیں چھ ٹیموں میں تقسیم کیا گیا جو طب، فنِ تعمیر، کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لسانیات، سیاحت، تاریخ اور پائیدار زراعت کے شعبوں کی نمائندگی کریں گے۔
اس پروگرام کی قیادت سات مقررین اور مینٹور کر رہے ہیں جبکہ ججوں کا پینل مباحثے کے ابتدائی اور آخری راؤنڈز کی نگرانی کرے گا۔
مقررین میں دلائل کی اساس پر محقق اور مترجم لافی المطیری گفتگو کریں گے۔ ڈاکٹر ھیفا العصیمی تنقیدی فکر پر اپنے خیالات پیش کریں گی، ڈاکٹر سعید بنتاجر دلائل کے دوران جذبات کے کرادر پر بات کریں گے، ڈاکٹر حسن الشریف فکری اوصاف کی اہمیت بیان کریں گے، ڈاکٹر فیصل الشہرانی مناظرے میں مقابلے کی تکنیک پر اظہار خیال کریں گے جبکہ مستقبل کے مطالعے کے محقق ڈاکٹر عبدالرحمٰن مرشود مہمان مقرر ہوں گے۔ عزہ مختار یہ بتائیں گی کہ مناظرے کی تیاری کیسے کرتے ہیں۔
جواھر الزہوانی نے جو وصل کلچرل سینٹر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں، عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’مناظرے کے کیمپ کا تصور ہمارے اِس یقین سے پیدا ہوا کہ فرد کی تعمیر کے لیے صرف علم ہی کافی نہیں بلکہ اُسے تیار کرنے کے لیے غور و فکر، سوال اٹھانے، خیالات کا تجزیہ کرنے، مناظرے میں خود کوئی موقف قائم کرنے، اُسے سنبھالنے اور استدلال کو منطقی شکل دینے جیسے سلیقے آنا بہت ضروری ہے۔ ہم صرف مقررین کی کھیپ تیار نہیں کر رہے بلکہ ہم مفکرین کی فوج بنا رہے ہیں جو بامعانی مکالمے کے لیے ضروری ہتھیاروں سے لیس ہو گی‘۔
جدہ تاریخیہ میں نیا مباحثہ کیمپ طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
انھوں نے کہا یہ پروگرام ذہن کی مشق کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جس میں مختلف نقطۂ ہائے نظر پر غور وفکر کرنا اور ایسی نسل کو پروان چڑھانا ہے جو اپنے خیالات کو بہترین طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔
’ہمیں امید ہے کہ اس پروگرام میں شریک ہر فرد جب یہاں سے نکلے گا تو اُن مہارتوں کے ساتھ نکلے گا جو کیمپ کے خاتمے کے بہت عرصے بعد تک اُس کے ہمرکاب ہوں گی اور مطالعے، کیریئر اور روزمرہ کی گفتگو میں اُسے فائدہ پہنچائیں گی‘۔
سکوپ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر غادہ الحزمی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انیشیٹیو، مملکت کے وژن 2030 کے مقاصد میں معاون ہے جس کے تحت نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔
’اس پروگرام کے پہلے ایڈیشن میں ہم ایک پائیدار فکری اور ثقافتی انیشیٹیو کی بنیاد ڈال رہے ہیں جو نوجوانوں کو تعمیری مباحثے میں شریک ہونے، اختلافی مسائل کو سائنسی طریقوں سے حل کرنے اور بین الاقوامی سٹیج پر پورے اعتماد کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار کرے گا‘۔
انھوں نے کہا جدہ تاریخیہ میں بیت الشربتلی جیسے مقام کا انتخاب بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ شہر جیتے جاگتے اور زندگی کی رعنائی والے کلچر کی آغوش میں آگے بڑھتا رہا ہے اور اب علم و فکر کے مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
کیمپ میں نظریاتی تعلیم اور عملی مباحثے کے راؤنڈز ترتیب دیے گئے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
شرکا نے کہا کہ کیمپ سے اُنھیں اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا جس سے اُنھیں تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی فائدہ پہنچے گا۔
مئی سامی نے، جو قانون اور بین الاقومی تعلقات میں پوسٹ گریجوایٹ کی طالبہ ہیں اور سپیشلائز کر رہی ہیں، کہا کہ ’قانون کی طالبہ کی حیثیت سے مباحثے کے اِس کیمپ میں شمولیت کا فیصلہ میں نے اِس لیے کیا کہ میری منطقی دلائل دینے کی صلاحیتں مضبوط ہو جائیں، دباؤ کے ماحول میں مخالف سمت سے پیش کی جانے والی گواہی اور ثبوتوں کو چیلنج کر سکوں اور متناقض دلائل کا تجزیہ کر کے اپنے نقطۂ نظر کو بہتر بنانے سکوں۔ اِس تجربے سے مجھے قانونی کیس تیار کرنے میں مدد ملے گی اور مقدموں کو پیش کرنے کے لیے میرے اعتماد میں اضافہ ہوگا‘۔
مباحثے کے فورم میں شریک پوسٹ گریجوایٹ کی ایک اور طالبہ نور سعید مٹی سے متعلق علوم، سائنس اور پائیدار زراعت کے شعبے میں سپیشلائز کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ’میں نے کیمپ میں اِس لیے شرکت کی تاکہ ماحولیات سے متعلق معاملات میں تعاون کے لیے سائنسی اور عملی گفتگو کرنے کی صلاحیت کو بڑھا سکوں۔ مجھے یقین ہے کہ اِس تجربے سے مجھے بہتر بات چیت کرنے میں مدد ملے گی اور میں ماحولیات کے منصوبوں کو معروضی طریقوں اور لوگوں کو قائل کرنے کے انداز میں پیش کر سکوں گی‘۔