بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ نے جان کے خطرے کے باوجود وطن واپسی کا ارادہ
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ نے جان کے خطرے کے باوجود وطن واپسی کا ارادہ
بدھ 29 جولائی 2026 10:03
اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت نے ان کی 15 سالہ سخت حکمرانی کا خاتمہ کیا (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے بعد ملک سے فرار ہو کر انڈیا میں پناہ لینے والی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ وہ اپنی جان کے خطرے کے باوجود دسمبر تک وطن واپس جانے کے لیے پرعزم ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی سے ای میل کے ذریعے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے قتل کیا جا سکتا ہے۔ مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ مجھے جیل بھیجا جا سکتا ہے، میں اپنی تقدیر سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ پھر بھی میں واپس جانا چاہتی ہوں کیونکہ میرے عوام مجھے بلا رہے ہیں۔‘
اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت نے ان کی 15 سالہ سخت حکمرانی کا خاتمہ کیا، جس کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے انڈیا فرار ہوئیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اقتدار بچانے کی کوششوں کے دوران کریک ڈاؤن میں تقریباً 14 سو افراد ہلاک ہوئے۔
نومبر میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی جسے انہوں نے ’سیاسی انتقام کو قانون کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرنا‘ قرار دیا۔ سابق وزیراعظم، جو انڈیا میں ایک خفیہ مقام پر رہ رہی ہیں، نے کہا کہ ان پر وطن واپسی کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے۔
انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات، جو عبوری حکومت کے دوران کشیدہ تھے، وزیراعظم طارق رحمان کے فروری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مستحکم ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ نے باضابطہ طور پر حسینہ کی حوالگی کی درخواست دی ہے، جبکہ انڈین حکومت نے کہا ہے کہ وہ درخواست کا ’جائزہ‘ لے رہی ہے۔
حسینہ واجد نے کہا کہ اس معاملے کا ان کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ ’میں انڈیا میں عزت اور وقار کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ انڈین حکام نے مجھ سے حوالگی پر بات نہیں کی۔ میں نے خود فیصلہ کیا ہے کہ اپنے ملک واپس جاؤں۔‘
کوئی معافی نہیں
حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے حسینہ کی حکومت پر مخالفین کے قتل، اپوزیشن جماعتوں کو دبانے، جانبدار عدالتوں اور یکطرفہ انتخابات کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔ لیکن حسینہ واجد نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے الزامات ’سیاسی طور پر گھڑے گئے ہیں۔‘
حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ ’میرا مقصد اقتدار نہیں۔ عوام کی خدمت ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے اپنے دورِ حکومت کے حوالے سے کہا کہ ’جب بھی الزامات لگے، تحقیقات ہوئیں اور جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔‘
سابق وزیراعظم نے طلبہ احتجاج کے دوران طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ ’میری حکومت نے اعلیٰ ترین سطح کا صبر دکھایا اور طلبہ تحریک کو پرامن حل کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔‘
انہوں نے بغاوت کو ’محض ایک عام طلبہ احتجاج‘ سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک منصوبہ بندی کی گئی کارروائی تھی جسے خفیہ ہدایات، منظم تشدد، پروپیگنڈا اور حکومت گرانے کے مقصد نے آگے بڑھایا۔‘
انڈیا میں حالیہ طلبہ احتجاج پر، جس کے نتیجے میں وزیرِتعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا، حسینہ واجد نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ واپسی پر سیاسی سرگرمی دوبارہ شروع کرنے کے سوال پر بھی انہوں نے براہِ راست جواب نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا مقصد اقتدار نہیں۔ عوام کی خدمت ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار نہیں کریں گی (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’ہر اس خاندان کے لیے ہمدردی ہے جس نے کسی عزیز کو کھویا‘، لیکن معافی دینے سے گریز کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار نہیں کریں گی۔
حسینہ واجد نے کہا کہ ’ریاستی فیصلے ایک شخص اکیلا نہیں کرتا اور انہیں پورے بحران میں سے کسی ایک واقعے کو الگ کر کے نہیں پرکھا جا سکتا۔‘