Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا سمندر کی طوفانی لہروں سے بچے کی جان بچانے والے لائف گارڈ کو وائٹ ہاؤس  بلانے اور ایوارڈ دینے کا اعلان

سی برائٹ بیچ اپنی طاقتور ساحلی لہروں کے لیے مشہور ہے، جہاں مختلف سمتوں سے آنے والی موجیں خطرناک صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ (فوٹو: انسٹاگرام)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے شہر سانتا کروز میں سمندر کی بلند و طاقتور لہروں سے ایک کمسن بچے کی جان بچانے والے نوعمر لائف گارڈ کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے وائٹ ہاؤس مدعو کرنا اور ممکنہ طور پر ایک اعلیٰ شہری اعزاز سے نوازنا چاہتے ہیں۔
کیلیفورنیا سٹیٹ پارکس کے مطابق، بہادر لائف گارڈ 16 سالہ رائڈر ولیمز ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شدید اور بلند لہروں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے کئی بار پانی میں غائب ہوتا ہے، مگر بچے کا ہاتھ نہیں چھوڑتا اور مسلسل اسے محفوظ مقام تک لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم اس بہادر نوجوان اور اس کے خاندان کو، اور ممکن ہو تو اس بچے کو بھی جس کی اس نے جان بچائی، وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے تاکہ اسے ایک اعلیٰ سویلین اعزاز دیا جا سکے۔ یہ بے حد بہادر ہے اور اس اعزاز کا مستحق ہے۔‘
کیلیفورنیا سٹیٹ پارکس کے مطابق، ہفتے کے روز سہ پہر 3 بج کر 32 منٹ پر سی برائٹ سٹیٹ بیچ پر ڈیوٹی کے دوران رائڈر ولیمز نے دیکھا کہ ایک بچہ توازن کھونے کے بعد ایک بڑی لہر کی زد میں آ کر سمندر میں بہہ گیا۔
حکام نے بتایا کہ بچہ تقریباً 15 گز دور سمندر میں جا پہنچا، جہاں ایک لائف گارڈ نے اس تک رسائی حاصل کی، جبکہ دوسرا لائف گارڈ بھی پانی میں اتر کر امدادی کارروائی میں شامل ہوا۔
بچے کو بحفاظت ساحل پر منتقل کر دیا گیا اور اسے کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔ بعد ازاں اسے اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔
سانتا کروز سٹیٹ لائف گارڈ ایسوسی ایشن نے بھی رائڈر ولیمز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک جان بچا کر غیرمعمولی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔
ٹرمپ کے صاحبزادے ایرک ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر نوجوان لائف گارڈ کی تعریف کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے امریکہ کا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز دیا جائے۔
انہوں نے لکھا کہ ’اس 16 سالہ لائف گارڈ کو ملک کا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز دیا جانا چاہیے۔ یہ واقعی امریکہ کا بہترین چہرہ ہے۔ شاباش!
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد کی توجہ حاصل کی، جہاں صارفین نے رائڈر ولیمز کی ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
موقع پر موجود لوگوں کے مطابق، امدادی کارروائی وائرل ویڈیو سے کہیں زیادہ دیر تک جاری رہی۔ ان کے بقول، ساحل پر موجود افراد نے بچے تک پہنچنے کے لیے انسانی زنجیر بھی بنائی، مگر شدید لہروں نے اسے توڑ دیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ بچے کو ساحل پر پہنچانے کے بعد رائڈر ولیمز اپنی لائف گارڈ پوسٹ سے آگے دوڑتے ہوئے طبی امداد لینے گیا، جہاں پیرامیڈکس نے بچے کا معائنہ کیا۔
واقعے کے باوجود ولیمز بعد میں دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گیا اور شام کو ساحل پر آنے والوں کی نگرانی کرتا رہا۔
حکام کے مطابق، یہ رائڈر ولیمز کا بطور لائف گارڈ پہلا سیزن ہے کیونکہ کیلیفورنیا میں ریاستی لائف گارڈ بننے کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف، جس نے دعویٰ کیا کہ وہ ولیمز کو جانتی ہے، نے لکھا کہ ’شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایسے شدید سمندری حالات میں کسی شخص کو مضبوطی سے تھامے رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لائف گارڈ نے ایک ماہر کی طرح کام کیا، زیادہ تر راستہ اکیلے ہی بچے کو کھینچ کر باہر لایا اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ واقعی ایک ہیرو ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسے اس کارنامے کا بھرپور اعتراف ملے گا۔‘
دیگر عینی شاہدین کے مطابق، ابتدا میں سمندر نسبتاً پرسکون دکھائی دے رہا تھا اور لوگ پانی کے کنارے کھڑے تھے، مگر اچانک ایک بہت بڑی لہر ساحل سے ٹکرا گئی۔
ایک عینی شاہد نے کہا کہ ’لہر اتنی بڑی تھی کہ ساحل پر ہماری رکھی ہوئی چیزوں تک تقریباً پہنچ گئی۔‘
سی برائٹ بیچ اپنی طاقتور ساحلی لہروں کے لیے مشہور ہے، جہاں مختلف سمتوں سے آنے والی موجیں خطرناک صورتحال پیدا کرتی ہیں، جس کے باعث تجربہ کار تیراکوں کے لیے بھی یہاں تیرنا دشوار ہوتا ہے۔

 

شیئر: