Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی پُر تشدد کارروائیاں روکی جائیں: سعودی وزیرِ خارجہ

انہوں نے ان کارروائیوں کے ذمہ داروں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
 سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ’ بین المذاہب مکالمہ اب محض نظری تصور نہیں بلکہ منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک ناگزیر حکمتِ عملی بن چکا ہے۔‘
ایس پی اے کے مطابق یہ بات انہوں نے بدھ کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہونے والی بین المذاہب مکالمے کے اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
یہ اجلاس جامع امن منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلے میں بلایا گیا، جس کی صدارت اٹلی کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کی۔
اجلاس میں فلسطین کی وزیر خارجہ ڈاکٹر فارسین اغابکیان شاہین، دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے قائم عالمی اتحاد کے رکن ممالک اور دیگر بین الاقوامی سطح کی اعلی شخصیات نے شرکت کی۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے خطاب میں مزید کہا ’آسمانی مذاہب انسانی وقار، انصاف اور پُر امن بقائے باہمی کی مشترکہ اقدار پر قائم ہیں، جبکہ دوسروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھ کر دیرپا امن و سلامتی حاصل کرنا ممکن نہیں۔‘
انہوں نے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی القدس کے حوالے سے مذہبی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب، القدس، اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں تبدیلی کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے۔‘

سعودی وزیر خارجہ نے مسجد الاقصی میں بار بار اشتعال انگیزی، مقدس مقامات پر حملوں اور ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جو مذہبی کشیدگی کو ہوا دینے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے خلاف آباد کاروں کی پُرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا کہا کہ ’یہ کارروائیاں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے تعاون سے کی جا رہی ہیں۔‘
سعودی وزیر خارجہ نے ان کارروائیوں کے ذمہ داروں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا ’غیرقانونی اسرائیلی آباد کاری کا مسلسل پھیلاؤ فلسطینی عوام کے حقِ زندگی، تحفظ اور وقار و خق خود ارادیت کی صریح خلاف ورزی ہے، جو امن اور خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے ان بین الاقوامی شراکت داروں کے اقدامات کو سراہا جنہوں نے اسرائیلی آباد کاروں کی مصنوعات کی اپنے ملکوں میں پابندی عائد کی، فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد پر بھی پابندیاں عائد کیں اور تشدد میں ملوث آباد کاروں کے اپنے ممالک میں داخلے کو روکا۔
انہوں نے ایسے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’احتساب کو یقینی بنایا جائے اور یہ واضح پیغام بھی دیا جائے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بغیر نتائج کے نہیں رہ سکتیں۔‘
 شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا ’سعودی عرب، امریکہ، ریاست فلسطین و دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803 اور اعلان نیویارک پر عمل درآمد کے لیے کام جاری رکھے گا۔‘
اجلاس میں سعودی وزارتِ خارجہ کی ایمبیسڈر ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان بھی موجود تھیں۔

 

شیئر: