Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈرامے کے ماہر، مگر یہاں نہیں‘، عدالت کی راجپال یادو کو رقم ادائیگی کے لیے دو ہفتے کی مہلت

چیک باؤنس کیس کی سماعت منگل کو سپریم کورٹ میں ہوئی (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈیا کی سپریم کورٹ نے بالی وڈ اداکار راجپال یادو کو لین دین کے کیس میں دو کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی ہے۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق چیک باؤنس ہونے کے کیس میں اداکار کی درخواست کی سماعت منگل کو سپریم کورٹ میں ہوئی، جس کے بینچ میں چیف جسٹس سوریا کانت بھی شامل تھے جبکہ جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی اس کا حصہ تھے۔
یہ بینچ راجپال دو کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے جس میں انہوں نے چیک باؤنس کیس میں دہلی ہائیکورٹ کے سزا برقرار رکھنے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے اداکار کو بقایا رقم کی ادائیگی کی قابل عمل تجویز پیش کرنے کے لیے دو ہفتے کا موقع دیا ہے جبکہ دو کروڑ روپے عدالت کی رجسٹری میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
بینچ نے ان کو پانچ اکتوبر تک گرفتاری سے استثنیٰ بھی دیا، تاہم دو ہفتے کے اندر دو کروڑ جمع کرانے کے علاوہ اپنا پاسپورٹ بھی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر چیف جسٹس سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ ’وہ (اداکار) ڈرامہ کرنے میں ماہر ہیں مگر یہ سب عدالت کے اندر نہیں ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ عدالت کے پچھلے احکامات پر عمل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اعتماد مجروح ہوا۔
راجپال یادو کی جانب سے پیش ہونے والے سینیئر وکیل پی ایس پٹوالیا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل تنازع حل کرنے کے لیے تیار ہیں اور رقم کی ادائیگی کے حوالے سے قابل عمل طریقہ کار عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ راجپال یادو اس معاملے میں ساڑھے چار ماہ جیل میں گزار چکے ہیں اور ان کے شوبز کے دوستوں نے ان کو مالی مدد فراہم کی تھی۔

چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو چند ماہ جیل میں بھی گزار چکے ہیں (فوٹو: انسٹاگرام، راجپال یادو)

اداکار کے خلاف کیس دائر کرنے والی کمپنی مریالی پراجیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے پیش ہونے والے سینیئر وکیل اجیت سنہا نے عدالت کو بتایا کہ راجپال یادو کئی سال سے اپنے وعدے پورے نہیں کر پائے ہیں۔
یہ مالی تنازع 2010 کا ہے جب کمپنی نے راجپال یادو کو ان کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ’اتہ پتہ لاپتہ‘ کے لیے پانچ کروڑ روپے دیے تھے۔
کمپنی کے مطابق راجپال یادو اور ان کی کمپنی نے سود سمیت 11 کروڑ روپے واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
2013 میں راجپال یادو نے ایک کروڑ پانچ لاکھ کے سات چیک دیے جو ڈس آنر ہو گئے تھے۔  
میجسٹریٹ کورٹ نے 2018 میں راجپال یادو کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی، جس کو سیشن کورٹ نے کم کرتے ہوئے تین ماہ کر دیا تھا جبکہ 10 جولائی کو دہلی ہائیکورٹ نے ان کے خلاف جرم ثابت ہونے اور قید کی سزا کو برقرار رکھا، جس کے خلاف اداکار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
آٹھ ستمبر کو سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا جس کے مطابق انہیں گرفتاری سے استثنیٰ دیا گیا تھا جبکہ پانچ کروڑ روپے رجسٹری میں جمع کرانے کا بھی کہا گیا تھا۔
کیس کی اگلی سماعت پانچ اکتوبر کو ہو گی۔

شیئر: