مملکت میں اخلاقی اے آئی کے فروغ کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ افراد کی تربیت
یونیسکو فورم کی مشترکہ میزبانی سعودی عرب نے سدایا اور انٹرنیشنل سینٹر فار اے آئی ریسرچ اینڈ ایتھکس کے ذریعے کی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے قومی تربیتی پروگراموں میں اخلاقی استعمال اور حفاظتی معیارات کو شامل کرنے کے ایک نئے اقدام کے ذریعے 10 لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت میں تربیت دینے کا اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ریاض میں منعقدہ یونیسکو کے چوتھے گلوبل فورم آن دی ایتھکس آف اے آئی میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (سدایا) کے کیپیسٹی بلڈنگ سیکٹر کے سی ای او احمد الغامدی نے بتایا کہ ’ہم نے گزشتہ سال 10 لاکھ سعودی شہریوں کو اے آئی میں تربیت دینے، شعور پیدا کرنے اور انہیں زندگی و کام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی معلومات اور مہارتیں فراہم کرنے کے لیے ’سمائی انیشیٹیو‘ شروع کیا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس ہدف سے زیادہ لوگوں کو تربیت دی گئی ہے اور اس تربیت کا ایک اہم حصہ اخلاقی اے آئی، ذمہ دارانہ استعمال اور ڈیٹا کے تحفظ پر مرکوز تھا۔‘
یونیسکو فورم کی مشترکہ میزبانی سعودی عرب نے سدایا اور انٹرنیشنل سینٹر فار اے آئی ریسرچ اینڈ ایتھکس کے ذریعے کی۔
احمد الغامدی نے بتایا کہ اس فورم میں دنیا بھر کے 25 سے زائد وزراء کے ساتھ ساتھ عالمی رہنماؤں اور ٹیک کمپنیوں کو یونیسکو کے چھت تلے اکٹھا کیا گیا تاکہ اے آئی کی حفاظت اور ذمہ دارانہ استعمال کے مستقبل کی تشکیل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سمائی قومی شعبوں اور اداروں میں صلاحیتوں کی تعمیر پر سرمایہ کاری کا ایک حصہ تھا جس کا مقصد انہیں محفوظ اور مؤثر طریقے سے اے آئی اپنانے کے لیے درکار مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سمائی میں ہم نے یہ معلومات اور تربیت فراہم کی کہ کون سا ڈیٹا ظاہر کرنا ہے اور کن ٹولز کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنا ہے۔‘

الغامدی نے بتایا کہ سدایا کے تربیتی پروگراموں اور فریم ورکس میں اخلاقی اے آئی کو الگ موضوع کے بجائے ایک بنیادی عنصر کے طور پر رکھا گیا ہے۔
سدایا نے جنوری میں قومی ضروریات کے مطابق تعلیمی نظام کو ڈھالنے کی کوششوں کے تحت اے آئی کے لیے قومی فریم ورکس اور نصاب کا اعلان کیا تھا۔ الغامدی کے مطابق، بین الاقوامی کانفرنس آن ڈیٹا اینڈ اے آئی کیپیسٹی بلڈنگ میں اضافی فریم ورکس کا بھی اعلان کیا گیا جن کا مقصد ماہرین، اساتذہ اور تربیتی پروگراموں کو معیشت میں اے آئی کے وسیع استعمال میں مدد فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ڈویلپرز کے لیے اس تربیت میں صحیح ڈیٹا پر صحیح ماڈل کی تربیت دینا، تعصب سے بچنا، اور اے آئی کو دھوکہ دہی یا تشدد کے لیے استعمال نہ کرنا شامل ہے جبکہ اس میں افراد اور تنظیموں کی ڈیٹا پرائیویسی کا احترام کرنا اور ڈیٹا قوانین کی پابندی کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں ے کہا کہ اے آئی کی تیز رفتار پیشرفت نے عالمی سطح پر اس کے محفوظ استعمال اور عوامی اعتماد کے لیے گورننس اور اخلاقیات کو مرکزی حیثیت دے دی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اے آئی کی اخلاقیات سدایا میں صلاحیتوں کی تعمیر (کیپیسٹی بلڈنگ) کی تمام سرگرمیوں کے قلب میں شامل ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اے آئی کا اخلاقی استعمال اور اس کی حفاظت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے۔‘
