Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بغیر ستون چٹان کو تراش کر بنائی گئی مسجد ’الخلیفہ‘

مسجد میں قدرتی روشنی اور وینٹیلیشن کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن کی کمشنری الرس میں چٹان میں بنی مسجد ’الخلیفہ‘ ایک جدید تعمیراتی لینڈ مارک کے طور انجینیئرنگ کے شعبے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق مسجد کی تعمیر کے لیے زیرِ زمین چٹان کو اس طرح تراشا گیا کہ اس میں کوئی ستون نہیں ہے۔ اس کے ڈیزائن میں انجینیئرنگ کے حل شامل ہیں جو قدرتی روشنی اور وینٹیلیشن فراہم کرتے ہیں جبکہ سارا سال موسمی اثرات سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
انجینیئر محمد الخلیفہ کو مسجد کی ڈیزائننگ اور تعمیر میں کئی برس لگے۔ سنہ 2010 میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ مسجد اپنی مثالی بناوٹ اور طرزِ تعمیر کی وجہ سے غیرمعمولی شہرت حاصل کر چکی ہے۔
چٹانی غار کی شکل میں بنائی جانے والی اس مسجد کی متعدد خصوصیات ہیں۔ مسجد کی گنبد نما چھت کو سہارے کے لیے ستونوں پر کھڑا نہیں کیا گیا بلکہ چٹان کو اس انداز میں کاٹا گیا گیا کہ چھت بن گئی اور جس سے صفوں کی گنجائش میں بھی اضافہ ہو گیا۔
مسجد کی منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے موسم گرما میں درجہ حرارت معتدل رہتا ہے جبکہ سردیوں میں اندرونی موسم پُرسکون ہوتا ہے جس سے نمازیوں کو راحت ملتی ہے۔

مسجد میں تازہ ہوا کی آمد و رفت کے لیے خصوصی انتظامات ہیں۔ ہوا کے گزرنے کے لیے مخصوص چینلز بنائے گئے ہیں جو مسجد کے اندرونی ماحول کو تروتازہ رکھتی ہے۔
روشنی اور برقی آلات کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کیا گیا۔ سورج کی گردش کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف زاویوں پر سات روشن دان اس طرح بنائے گئے ہیں کہ سورج نکلنے اور ڈھلنے کے حساب سے روشنی مسجد کے اندر مختلف زاویوں سے پہنچتی رہے۔

شیئر: