کامن ویلتھ گیمز: تاریخ رقم کرنے والی پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا کا سیمی فائنل میں آج کینیڈین حریف سے مقابلہ
جمعہ 31 جولائی 2026 19:47
فاطمہ زہرا کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ پانچ بہنوں اور دو بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ (فوٹو: فیس بک)
پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا آج جمعے کی رات کو گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں اپنا سیمی فائنل میچ کھیل رہی ہیں۔
سیمی فائنل میں فاطمہ زہرا کینیڈین باکسر میری بتول الاحمدیہ سے کا سامنا کر رہی ہیں۔
سیمی فائنل کھیلنے والی ان دونوں باکسرز کا وزن 60 کلو گرام ہے اور دونوں کا قد 5 فٹ 7 انچ ہے۔ اس میچ میں جیتنے کی صورت میں فاطمہ کو ایک دن کے وقفہ کے بعد یکم اگست جمعہ کے روز فائنل میچ کھیلنے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی بنا لیا ہے۔ وہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زہرا گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان کے طور پر شریک ہیں۔
انہوں نے ابتدائی مقابلے میں لیسوتھو کی ریلیبوہ سیگیوٹی کو شکست دی، جبکہ کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی تجربہ کار باکسر جارڈن ولسن کو متفقہ فیصلے سے ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ فارمیٹ کے مطابق سیمی فائنل تک پہنچنے والے دونوں کھلاڑی کم از کم کانسی کے تمغے کے حقدار ہوتے ہیں۔
فاطمہ زہرا کی کامیابی پاکستان کو 12 سال بعد کامن ویلتھ گیمز باکسنگ میں تمغہ دلا سکتی ہے۔
فاطمہ زہرا کون ہیں؟
فاطمہ زہرا کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ پانچ بہنوں اور دو بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی بڑی بہن دعا زہرا بھی باکسر اور قومی چیمپیئن ہیں۔
فاطمہ کے والد ثاقب نور نے اپنی بیٹیوں کو کھیلوں میں آگے بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے بیٹیوں کی تربیت جاری رکھی اور انہیں باکسنگ کی طرف راغب کیا۔
فاطمہ زہرا نے 2018 میں باکسنگ کا آغاز کیا اور بعد میں قومی سطح پر مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ 60 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کی نمایاں باکسرز میں شمار ہوتی ہیں اور پاکستان آرمی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ان کے کوچ راحیل عدنان کے مطابق فاطمہ سخت محنت کرنے والی کھلاڑی ہیں اور روزانہ کئی گھنٹے تربیت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب سہولیات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو فاطمہ بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔
فاطمہ زہرا نے گلاسگو روانگی سے قبل چھ مرتبہ کی عالمی چیمپیئن انڈین باکسر میری کوم کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھا۔ اب وہ سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری ال مہدیہ کے خلاف مقابلہ کریں گی، جہاں کامیابی کی صورت میں وہ چاندی کے تمغے کی امیدوار بن جائیں گی۔
