Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کامن ویلتھ گیمز: پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا سیمی فائنل میں شکست کے باوجود کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب

پاکستان کی فاطمہ الزہرا کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ مقابلے میں سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری ال مہدیہ سے شکست کھا گئیں۔
اس شکست کے باوجود انہوں نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا، کیونکہ کامن ویلتھ باکسنگ کے فارمیٹ میں دونوں سیمی فائنل میں شکست کھانے والے باکسرز کو کانسی کا تمغہ دیا جاتا ہے
سیمی فائنل کھیلنے والی ان دونوں باکسرز کا وزن  60 کلو گرام ہے اور دونوں کا قد  5  فٹ 7 انچ ہے۔
پاکستان کی باکسر فاطمہ زہرا نے  کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زہرا گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان کے طور پر شریک ہیں۔
انہوں نے ابتدائی مقابلے میں لیسوتھو کی ریلیبوہ سیگیوٹی کو شکست دی، جبکہ کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی تجربہ کار باکسر جارڈن ولسن کو متفقہ فیصلے سے ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ فارمیٹ کے مطابق سیمی فائنل تک پہنچنے والے دونوں کھلاڑی کم از کم کانسی کے تمغے کے حقدار ہوتے ہیں۔
فاطمہ زہرا کی کامیابی پاکستان کو 12 سال بعد کامن ویلتھ گیمز باکسنگ میں تمغہ دلا سکتی ہے۔

فاطمہ زہرا کون ہیں؟

فاطمہ زہرا کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ پانچ بہنوں اور دو بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی بڑی بہن دعا زہرا بھی باکسر اور قومی چیمپیئن ہیں۔
فاطمہ کے والد ثاقب نور نے اپنی بیٹیوں کو کھیلوں میں آگے بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے بیٹیوں کی تربیت جاری رکھی اور انہیں باکسنگ کی طرف راغب کیا۔
فاطمہ زہرا نے 2018 میں باکسنگ کا آغاز کیا اور بعد میں قومی سطح پر مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ 60 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کی نمایاں باکسرز میں شمار ہوتی ہیں اور پاکستان آرمی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ان کے کوچ راحیل عدنان کے مطابق فاطمہ سخت محنت کرنے والی کھلاڑی ہیں اور روزانہ کئی گھنٹے تربیت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب سہولیات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو فاطمہ بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔
فاطمہ زہرا نے گلاسگو روانگی سے قبل چھ مرتبہ کی عالمی چیمپیئن انڈین باکسر میری کوم کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھا۔ اب وہ سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری ال مہدیہ کے خلاف مقابلہ کریں گی، جہاں کامیابی کی صورت میں وہ چاندی کے تمغے کی امیدوار بن جائیں گی۔

شیئر: