’تاوان دیں، واپس لے لیں‘، 2 فیفا ٹرافیز جو جیت کے نہیں چُرا کر لے جائی گئیں
’تاوان دیں، واپس لے لیں‘، 2 فیفا ٹرافیز جو جیت کے نہیں چُرا کر لے جائی گئیں
جمعرات 30 جولائی 2026 15:35
1966 میں جولس ریمے ٹرافی کو اس وقت چرایا گیا جب وہ نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی (فوٹو: فیفا میوزیم)
فیفا کی ٹرافی سپین لے گیا، لیونل میسی کی ڈبڈباتی آنکھوں سے لے کر ایونٹ میں شریک ہر ملک اور ایک ایک فین کے چہرے پر جھلکتے تاثرات تک، سب یہی چاہتے تھے کہ ٹرافی انہی کے پاس آئے، مگر کسی کے بھی ذہن میں شاید ہی یہ خیال آیا ہو کہ جیتنے کی کیا ضرورت ہے، کیوں نہ چوری کر لی جائے۔
اگر اس کے جواب میں آپ کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو عرض ہے کہ ایسا ہوا ہے اور وہ بھی ایک نہیں دو بار، جب جیتے بنا ہی ٹرافی کو اڑا لیا گیا جبکہ ایک بار تو واپسی کے لیے تاوان کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
زیادہ تر لوگوں کو 1983 والے واقعے کے بارے میں معلوم ہے مگر اس سے 17 قبل 1966 میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہوا تھا جس کے بعد ایک کُتا بھی شہ سرخیوں میں آیا اور اس کی کافی ٹھوس وجہ بھی تھی۔
ان واقعات کے بارے میں دی نیویارک ٹائمز، اتھلیٹک اور خود فیفا میوزیم کی ویب سائٹس پر تفصیلات موجود ہیں۔
پہلا واقعہ، کپ کیسے اڑایا گیا؟
1966 میں ہونے والے ورلڈ کپ کا میزبان انگلینڈ تھا اور اس کے آغاز سے چند روز قبل جولس ریمے ٹرافی کو اس لیے لندن لایا گیا تاکہ شائقین کا جوش بڑھانے کے لیے اس کی نمائش کی جائے پھر اس کو ویسٹ منسٹر شہر کے سینٹر ہال میں ہونے والی ایک ایسی نمائش میں رکھا گیا جس میں دوسری نایاب اور قیمتی اشیا بھی رکھی گئی تھیں اور اس کا آغاز 19 مارچ کو ہوا۔
ایک کتے کی مدد سے دوبارہ حاصل ہونے والی ٹرافی بعدازاں انگلینڈ نے جیت لی تھی (فوٹو: گیٹی امیجز)
اس کو دیکھنے کے لیے لوگ آتے رہے اور میڈیا بھی رپورٹ کرتا رہا، اس کی حفاظت کے لیے ایک سکیورٹی کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پایا تھا اور کافی تعداد میں گارڈز وہاں تعینات تھے۔
اگلے روز اتوار تھا اور ہال کے قریب ایک چرچ تھا چونکہ وہاں پر مذہبی سرگرمیاں ہونا تھیں اس لیے اس روز ہال کو عوام کے لیے بند کیا گیا جبکہ چرچ میں لوگوں کو جانے دیا گیا۔
اسی وجہ سے ہی گارڈز کچھ ریلیکس ہو گئے جبکہ ہال کی طرف کھلنے والا دروازہ لاک کر دیا گیا۔
سنہرے رنگ کی اس ٹرافی میں کافی مقدار میں سونا بھی استعمال ہوا تھا اور اس وقت اس کی قیمت چار ہزار ڈالر سے کچھ زائد تھی۔
چوروں کی جانب سے اسی روز ہی کارروائی ڈالنے کا پروگرام بنایا گیا تھا جس پر کامیابی کے ساتھ عمل بھی کر لیا۔
ہوا یوں کہ چونکہ گارڈز ہال بند ہونے کی وجہ سے قدرے ریلیکس تھے اس لیے ٹرافی پر ہمہ وقت نظر نہیں رکھی گئی، تھوڑی دیر بعد ایک گارڈ ہال میں گیا تو ٹرافی سٹینڈ پر موجود نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید اس کو کسی دوسرے گارڈ نے اٹھا کر سیف میں رکھ لیا ہو گا تاہم جب اس نے دوسرے گارڈز سے پوچھا تو پتہ چلا کہ کسی نے بھی ایسا نہیں کیا۔
چوری شدہ ٹرافی ڈھونڈنے والے کتے کو ہیرو قرار دیا گیا (فوٹو: دی اتھلیٹک)
پھر کیا تھا سب کی دوڑیں لگیں کہ ٹرافی کہاں گئی، پولیس پہنچی اور اس چھوٹے دروازے کو چیک کیا گیا جو چرچ کی طرف کھلتا تھا تو اس کا لاک ٹوٹا ہوا تھا۔
خبر باہر آتے ہی ہاہاکار مچ گئی، سکیورٹی کے لتّے لیے جانے لگے اور پوری انتظامیہ دفاعی پوزیشن پر چلی گئی۔
تحقیقات شروع ہوئیں اور تین روز بعد ہی فٹ بال ایسوسی ایشن کے چیئرمین فو میئرز کو خط موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ اگر ٹرافی واپس چاہیے تو 15 ہزار پاؤنڈ ادا کیے جائیں۔ ساتھ ہی پولیس کو خبر نہ کرنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔
خط میں ثبوت کے طور پر ٹرافی پر لگا سٹیکر بھی بھیجا گیا تھا۔
دو تین مزید رابطوں کے بعد جو میئرز نے بتائے گئے پتے پر اپنا بندہ تاوان کی ادائیگی کے لیے بھجوایا جو دراصل پولیس کا خفیہ آدمی تھا جس کے ہاتھ میں بیگ تھا۔
ٹرافی چوری ہونے کے بعد پولیس کو شدید تنقید کا سامنا رہا (فوٹو: گیٹی امیجز)
اسے دیکھتے ہی ایک مشکوک آدمی اس کی طرف بڑھا تاہم قریب سادہ کپڑوں میں موجود اہلکاروں نے اس کو دبوچ لیا۔
اس شخص کی شناخت ایڈورڈ بِچلے کے نام سے ہوئی جو کہ ایک گینگ کا حصہ تھا، اس نے اپنے ساتھیوں کے نام بتا دیے مگر وہ سب غائب ہو چکے تھے بمع ٹرافی کے۔
تحقیقات چلتی رہی مگر ٹرافی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا اور میڈیا پولیس کو ہدف تنقید بناتا رہا مگر پھر کچھ ایسا ہوا جس نے صورت حال بدل دی۔
کُتے کی انٹری
ایک ہفتے بعد جب ایک مقامی شہری ڈیوڈ کوربیٹ اپنے پیکلس نامی کتے کے ساتھ ایک نسبتاً ویران پارک سے گزر رہے تھے تو اچانک کتا ایک طرف ہوتے ہوئے ان جھاڑیوں کی طرف گیا جو گھنے درخت کے نیچے تھیں۔
مالک پیچھے گیا تو کتا اخبار میں لپٹی کسی چیز کو سونگھ رہا تھا مالک نے اسے اٹھایا۔
لندن میں اس جگہ اب بھی تختی لگی ہے جہاں سے ٹرافی برآمد ہوئی تھی (اتھلیٹک ڈاٹ کام)
’پھر مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں اس میں بم نہ ہو کیونکہ وہ کافی وزنی چیز تھی لیکن تھوڑا اخبار ہٹایا تو نیچے چمکتا سنہرا رنگ دکھائی دیا، پھر ہمت کرے مزید اخبار بھی ہٹا دیا۔‘
انہیں یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ یہ فیفا ٹرافی ہے کیونکہ ان دنوں میڈیا پر اس کی تصاویر دکھائی جا رہی تھیں۔
وہ سیدھا پولیس کے پاس پہنچے اور پھر یہ خبر نشر ہونا شروع ہوئی کہ ٹرافی مل گئی، کتا اور اس کا مالک ہیرو قرار پائے اور ان کو انعامات سے بھی نوازا گیا جبکہ کتے کے لیے ساری زندگی مفت خوراک کا انتظام کیا گیا، بعدازاں اس کتے نے ’دی سپائی وِد کولڈ نوز‘ فلم میں کام بھی کیا۔
جہاں سے ٹرافی ملی تھی ساؤتھ لندن میں اس مقام پر ایک تختی اب بھی لگی ہوئی ہے، جس پر لکھا گیا ہے کہ ’یہ وہی جگہ ہے جہاں سے پیکلس (کتے کا نام) کو ٹرافی ملی تھی۔‘
پیکلس نامی کتے نے بعدازاں ہالی وڈ کی فلم ’سپائی وِد کولڈ نوز‘ میں بھی کام کیا (فوٹو: فلیش بیک)
ماسٹر مائنڈ کون تھا؟
تفتیش کے دوران ایڈورڈ بِچلے نے چند نام بتائے جو کبھی نہیں ملے اور 2018 تک یہ گتھی نہ سلجھی کہ اس کا ماسٹر مائنڈ کون تھا۔
اسی برس ڈیلی مِرر نے دعویٰ کہا کہ اس کے پیچھے سڈنی کگولر تھا اور یہ راز اس کے بھیجتے گیری کگولر نے خود ہی انشفا کر دیا تھا۔ تاہم سڈنی کگولر اس سے کافی برس قبل انتقال کر چکا تھا۔
چوری ہونے والی دوسری ٹرافی، جو آج تک نہیں ملی
19 دسمبر 1983 کو بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوا مگر اس بار برازیل سے جولس ریمے ٹرافی اڑائی گئی۔
1983 میں برازیل سے چوری ہونے والی فیفا ٹرافی آج تک نہیں مل سکی ہے (فوٹو: گیٹی)
رپورٹس کے مطابق چور اس ٹرافی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جو دارالحکومت ریو ڈی جنیرو میں واقع فٹ بال کنفیڈریشن سینٹر میں رکھی گئی جسے چند برس قبل ہی برازیلین ٹیم جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
بہرحال چور اپنا کام کر گئے اور اس کے بعد وہی کچھ ہوا جو ایسے مواقع کے بعد ہوتا ہے یعنی میڈیا میں شور، حکام کی جانب سے شفاف تشویش کے دعوے اور پولیس کی سرگرمیاں مگر 43 برس بیت جانے کے بعد ابھی تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
پولیس یہ کہتے ہوئے ایک طرف ہو چکی ہے کہ ’ہو سکتا ہے اسے پگھلا کر فروخت کیا جا چکا ہو‘ مگر کیا معلوم ایسا نہ ہو بلکہ کچھ ایسا ہو جائے کہ لوگ کہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔