Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حماس صدر ٹرمپ کے جنگ ختم کرنے کے منصوبے کے تحت غیرمسلح ہونے پر رضامند

فلسطینی اسلامی تنظیم حماس کا مسلح رہنا اکتوبر سے نافذ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے (فوٹو: روئٹرز)
حماس نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت حماس اپنے ہتھیار ایک فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرے گی جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی۔
اسرائیل کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس سے کچھ دیر قبل ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجوزہ معاہدہ غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر غیر عسکری (ڈی ملٹریائزیشن) کرنے سے متعلق اسرائیلی مطالبات کو ’تسلی بخش انداز میں‘ پورا نہیں کرتا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان اس ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں ’غزہ کا معاملہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں آیا۔‘
فلسطینی اسلامی تنظیم حماس کا مسلح رہنا اکتوبر سے نافذ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے جمعرات کی رات اعلان کیا کہ حماس کے ’مکمل طور پر غیرمسلح‘ ہونے پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے انہوں نے غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
حماس کے عہدیداروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی جانب سے قائم کی جانے والی ایک کمیٹی حماس کے ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کے عمل کی نگرانی کرے گی جو غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔‘
تنظیم نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ ثالث اور بورڈ آف پیس اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل کرے جن میں غزہ سے انخلا بھی شامل ہے۔
حماس کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے کہا کہ تنظیم ’اپنے عوام کی خاطر، انہیں قتل اور بے دخلی سے بچانے کے لیے رعایتیں دے رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل غیر مسلح ہونے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا۔ قومی کمیٹی ہی اس کام کی ذمہ دار ہوگی،‘ جس سے ان کی مراد نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) تھی۔
اکتوبر کی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ طبی حکام کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم چار افراد جان سے گئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
اب توجہ عملدرآمد پر
بورڈ آف پیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں تصدیق کی کہ حماس نے ’غزہ جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عملدرآمد کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ سے اتفاق کیا ہے۔‘
ادارے نے لکھا کہ ’ہماری توجہ اب مکمل عملدرآمد پر مرکوز ہے،‘ اور مزید کہا کہ این سی اے جی ’جلد ہی مکمل اختیارات کی جانب مرحلہ وار منتقلی کا آغاز کرے گی۔‘
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ جب حماس غیر مسلح ہو جائے گی تو ’اسرائیلی افواج واپس چلی جائیں گی، اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالے گی تاکہ وہاں کے رہائشیوں اور ہمسایہ علاقوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔‘
بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے جمعہ کو کہا کہ یہ معاہدہ ’مہینوں پر محیط نہایت مشکل مذاکرات‘ کے بعد طے پایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ حماس کے ’مکمل طور پر غیرمسلح‘ ہونے پر اتفاق ہو گیا ہے (فائل فوٹو: بلومبرگ)

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’اب آگے کیا ہوتا ہے، یہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ عملدرآمد اور اس کی تصدیق حقیقی ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انخلا کو ہتھیاروں کے خاتمے کے عمل کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔‘
مصر کے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے میڈیا کے ادارے القاہرہ نیوز نے جمعہ کو بتایا کہ ’قاہرہ میں جلد ہی جنگ بندی کے ثالثوں کا اجلاس ہوگا، جن میں امریکا، قطر اور ترکیہ بھی شامل ہیں، اور اجلاس میں جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر توجہ دی جائے گی۔‘

شیئر: