العلا کھجور میلے کا ساتواں ایڈیشن شروع، نیلامی و روایتی سرگرمیاں جاری
العلا کھجور میلے کا ساتواں ایڈیشن شروع، نیلامی و روایتی سرگرمیاں جاری
جمعہ 18 ستمبر 2026 19:10
کمشنری میں 42 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں(فوٹو،ایس پی اے)
العلا رائل کمیشن کی جانب سے ’العلا کھجورمیلے‘ کے ساتویں ایڈیشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ فیسٹیول کا آغاز الفرسان گاؤں میں کھجوروں کی نیلامی سے ہوا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق کھجورمیلے میں نیلامی کی سرگرمیاں ہر ویک اینڈ پر 15 نومبر تک جاری رہیں گی۔ میلے میں کمشنری کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کاشتکار بھرپور انداز میں شرکت کررہے ہیں۔
میلے کی دیگر سرگرمیاں ’المنشیہ‘ کے کاشتکار بازار میں بھی جاری رہیں ، جہاں ماہِ رواں 18 سے 27 ستمبر تک شہریوں اور سیاحوں کے استقبال کے حوالے سے خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
کھجوروں کی نیلامی سیزن کی اہم سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جہاں العلا کمشنری میں پیدا ہونے والی کھجوروں کی مختلف اقسام کو پیش کیا جاتا ہے۔
المنشیہ کے بازار میں کسانوں، گھریلو مصنوعات تیار کرنے والے خاندانوں اور مقامی دستکاروں کے لیے بھی مقامات مخصوص کیے گئے ہیں۔ یہ بازار مقامی صنعت کار اور وزٹرز کو ایک ہی چھت کے نیچے جمع کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
العلا میں کھجور کی کاشت عہدِ قدیم سے چلی آرہی ہے(فوٹو، ایس پی اے)
العلا کمشنری کی قدیم تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خطے میں کھجور کی موجودگی کا آغاز کم از کم پہلی صدی قبل از مسیح سے ہے، عکمہ پہاڑ جسے ’اوپن لائبریری‘ بھی کہا جاتا ہے کی چٹانوں پر موجود قدیم نقوش کے ذریعے بھی عہدِ رفتہ میں کھجور کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
العلا میں اس وقت 42 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں، جو تقریبا 16 ہزار 484 ہیکٹر زرعی اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں سالانہ ایک لاکھ 30 ہزار ٹن کے قریب کھجوروں پیدا ہوتی ہے۔
کمشنری میں پیدا ہونے والی کھجوروں کی متعدد اقسام ہیں جن میں نمایاں ترین برنی، العنبر، الصفاوی، الحمراء اور الجدول شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر مقامی اقسام بھی یہاں کاشت کی جاتی ہیں۔
کھجور فیسٹیول کی سرگرمیوں میں العلا میں نسل درنسل منتقل ہونے والے زرعی طریقوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ ان میں ’جد النخیل‘ کے عنوان سے پیش کی جانے والی سرگرمی نمایاں ہے، جس میں کھجور پکنے کے بعد اسے توڑنے اور جمع کرنے کا اجتماعی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
’جد النخیل‘ ایک روایتی و اجتماعی سرگرمی ہے جس پر آج بھی عمل کیا جاتا ہے۔ اس میں کاشتکار اور ان کے ساتھی و مددگار درختوں پر چڑھنے کے لیے مخصوص رسیوں کا استعمال کرتے تھے۔
کھجوروں کے گچھوں کو اتارنے کے بعد انہیں چھانٹا جاتا تھا بعدازں کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی مخصوص ٹوکریوں میں انہیں رکھا جاتا۔ یہ روایت العلا کے نخلستانوں میں کھجوروں کی فصل کے موسم کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔