Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شدا الاسفل پہاڑ کے قدیم غار، صدیوں پرانے تہذیب کے خاموش گواہ

غاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ماضی میں انسانوں کے مسکن تھے (فوٹو: ایس پی اے)
الباحہ ریجن کی المخواہ کمشنری میں واقع ’شدا الاسفل‘ پہاڑی سلسلے اپنی بلند و بالا گرینائٹ چٹانوں میں ہزاروں برس پرانے راز سموئے ہوئے ہیں۔
ان پہاڑوں میں موجود قدرتی غاریں اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہیں کہ وہ ماضی میں انسانوں کے مسکن رہے تھے۔ غاروں میں ملنے والے ثمودی نقوش اور چٹانی تصاویر جنوب مغربی جزیرہ نمائے عرب میں انسانی آبادی اور قدیم تہذیب کی تاریخی جھلک بھی پیش کرتے ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ پہاڑی سلسلہ سطح سمندر سے تقریباً 1600 میٹر بلندی پر واقع ہے جو مملکت کی گرینائٹ چٹانوں پر مشتمل حیرت انگیز قدرتی ساختوں میں شمار ہوتا ہے۔
’جبل شدا الاسفل‘ میں موجود غاریں منفرد چٹانی ساخت کے باعث خاص اہمیت کی حامل ہیں جبکہ ان پر نقش مختلف علامتیں اس علاقے میں بسنے والی قدیم اقوام کے رہن سہن کی عکاس ہیں۔

یہ پہاڑی سلسلے گھنے نباتاتی ذخیرے، وادیوں اور قدرتی گھاٹیوں سے مالا مال ہیں اور متعدد جنگلی حیات کا قدرتی مسکن بھی۔ اس کے علاوہ یہ اپنے مشہور ’شدوی کافی‘ کی پیداوار کے حوالے سے بھی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔
شدا پہاڑ کی تاریخ اور ورثے کے ایک ماہر ناصر الشدوی کے مطابق مقامی آبادی نے ان غاروں کو، جن میں ماضی میں ان کے آباؤ اجداد سکونت پذیر تھے محفوظ رکھتے ہوئے جدید انداز میں بحال کیا ہے۔

عہدِ رفتہ کے انسانوں کے غار والے مسکن اب سیاحتی قیام گاہوں میں بدل چکے ہیں جہاں گرمی اور سردی دونوں موسموں میں سیاح یہاں کا رخ کرتے اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے ساتھ قدرتی حسن سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔
تاریخ دان الشدوی کا مزید کہنا تھا کہ ’جبل شدا الاسفل‘ مہم جوئی، قدرتی مناظر اور فوٹو گرافی کے شوقین افراد کے لیے بھی ایک منفرد منزل بن چکا ہے، جہاں مملکت کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرون ملک سے بھی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

 

شیئر: