Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریگستانی ہواؤں سے پہاڑیاں کیسی تشکیل پاتی ہیں؟

خلف الغفیلی کے مطابق ریگستان میں پہاڑیوں کی بلندی 200 میٹر سے بھی اونچی ہو سکتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
پہاڑیاں زمین پر بہت نمایاں قدرتی بناوٹ اور ساخت رکھتی ہیں جن سے مناظر کے سلسلوں کا تنوع اور بھی زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، پہاڑیاں اپنے ماحول کی مناسبت سے، زمین سے اونچی لیکن پہاڑوں سے نیچی اور رسائی میں آسان ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ارضیاتی اور ماحولیاتی تنوع کا ایک اہم عُنصر کہلاتی ہیں۔
پہاڑیوں کی بناوٹ پتھروں کی بھی ہو سکتی ہے اور ریت کی بھی لیکن اِن دونوں اقسام کی خصوصیات الگ الگ ہیں۔
حدودِ شِمالیہ کے صحرائی علاقے میں واقع ریتیلی پہاڑیاں اُس وقت اپنی مخصوص شکل اختیار کرتی ہیں جب ریگستانی ہوائیں، ریت کے ذرات کو اپنے دوش پر سوار کر کے کسی دُور دوسرے مقام پر اُتار آتی ہیں جہاں یہ ذرے پھر جمع ہو کر کبھی ٹِیلوں کے بھیس میں، کبھی ہوا کی لہروں کی صورت میں اور کبھی اہرام کی شکل میں نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔
خلف الغفیلی مقحقق، تاریخ دان اور ماہرِ آثارِ قدیمہ ہیں اور ٹوئر گائڈ کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ریگستان میں پہاڑیوں کی بلندی 200 میٹر سے بھی اونچی ہو سکتی ہے جبکہ اِن کی ڈھلان تین درجے سے اوپر جا سکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اکثر پہاڑیاں، تہہ میں پڑے پتھروں سے بنتی ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بادیہ نشین عربوں کی کمیونٹیاں، تاریخی طور پر رفحا گورنریٹ کے قریب واقع کچھ پہاڑیوں کو معدنی نمک نکالنے کے لیے بھی استعمال کرتی تھیں۔

الغفیلی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پہاڑیاں نہ صرف اہم ارضی ساختوں کا ایک حصہ ہیں بلکہ تاریخِ انسانی میں آبادیوں کے لیے سٹریٹیجک امور کے لیے بھی استعمال کی گئی ہیں۔
آج یہ پہاڑیاں ماحولیاتی اور سیاحتی تنوع کے کام آ رہی ہیں جہاں مہم جُوئی کے شوقین افراد، زمین کے رازوں سے پردہ اٹھانے والے تحقیق کار اور انسانی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد اِن پہاڑیوں میں اپنی اپنی پسند کی خصوصیات ڈھونڈنے کے لیے اِن میں دلچپسی لیتے ہیں اور اِن کی طرف چلے آتے ہیں۔

شیئر: