حائل کے نجدی دروازوں کی مملکت میں منفرد شناخت کی وجہ کیا ہے؟
روایتی فن کو عصرِحاضر میں زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
حائل شہر کے قدیم روایتی بازار کا ایک گوشہ اپنی منفرد طرزِ تعمیر کی دلکش جھلک پیش کرتا ہے، جہاں نجدی طرز کے روایتی لکڑی کے دروازے اور ثقافتی دستکاری کے متنوع نمونے سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق حائل کے اس قدیم بازار میں دستکاری کے فن کو محفوظ کرنے اور اسے نسل نو میں منتقل کرنے کے لیے ہنرمند عبداللہ الخزام مصروف عمل ہیں۔
الخزام اپنے فن پاروں کی تیاری میں مقامی درخت اثل سمیت مقامی لکڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ دروازے اور دیگر اشیا بنانے کے لیے لکڑی کو سال میں دو بار کاٹا جاتا ہے تاکہ اس کی مضبوطی اور معیار برقرار رہے۔
ہنرمند الخزام کا کہنا تھا کہ ’حائلی دروازہ اپنی مضبوط ساخت کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اسے چار مضبوط لکڑی کے شہتیروں سے تیار کیا جاتا ہے، دروازے پر نقش و نگار روایتی آلات سے بنائے جاتے ہیں جو ماضی میں رائج تھے۔‘
نجدی طرز کے دروازے بھی اپنی نفیس کاریگری کے حوالے سے مشہور ہیں۔ یہ عموماً تین شہتیروں سے تیار کیے جاتے ہیں اور ان پر ہاتھ سے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔
دروازے کو رنگ دار بنانے کے لیے مقامی ماحول سے ہم آہنگ مٹیالے رنگ کا استعمال کیا جاتا ہے جو خوبصورتی اورعملی افادیت کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔

عبداللہ الخزام کی دستکاری و ہنرمندی محض روایتی دروازوں کی تیاری تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ لکڑی سے ایسے دیدہ زیب ماڈلز بھی تیار کرتے ہیں جو ماضی کے دور کی روزمرہ کی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
فنکار کے تیار کردہ ماڈلز میں کنوؤں سے پانی نکالنے کے ڈول اور آلے، اونٹ کی پشت پر رکھا جانے والا ’شداد‘ لکڑی کے قدیم تالے، مٹی سے بنے قدیم گھروں اور تاریخی عمارتوں کے نمونے بھی شامل ہیں جو علاقے کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

الخزامی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سٹال پر آنے والوں کو لکڑی کے انتخاب، اس پر نقش و نگار بنانے اور روایتی دستکاری کے مختلف مراحل کا عملی مظاہر بھی کراتے ہیں۔
خیال رہے حائل کے اس قدیم و روایتی بازار میں موجود عبداللہ الخزامی کا ’کارنر‘ یا سٹال ثقافتی ورثے اور فنِ دستکاری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک مثالی مرکز کا درجہ اختیار کرچکا ہے جہاں روایتی نجدی اور حائلی دروازوں کے فن کو نہ صرف محفوظ کیا جا رہا ہے بلکہ اسے عصر حاضر میں بھی زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی جا رہی ہے۔