امریکہ میں ہزاروں تارکینِ وطن بچوں کی ملک بدری کا خطرہ بڑھ گیا
امریکہ میں ہزاروں تارکینِ وطن بچوں کی ملک بدری کا خطرہ بڑھ گیا
ہفتہ 1 اگست 2026 8:47
صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے سال ہی میں مہاجر بچوں کو بھی ملک سے نکالنے کے ہدف میں شامل کر لیا گیا تھا (فائل فوٹو: اے پی)
امریکہ میں ہزاروں مہاجر بچوں کو ملک بدری کے نئے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ قانونی معاونت کا معاہدہ ختم ہو رہا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ والدین یا سرپرست کے بغیر امریکہ آنے والے مہاجر بچوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، وہ امیگریشن عدالت میں اپنی قانونی نمائندگی سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے باعث ان کی ملک بدری کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ یہ صورتِ حال ایک ایسے وقت پر پیدا ہو رہی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے دے رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جمعہ اس معاہدے کا آخری دن ہے جس کے تحت وفاقی حکومت اُن بچوں کو قانونی خدمات فراہم کرتی تھی جو والدین یا سرپرست کے بغیر امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔
حکومت یہ خدمات ملک بھر میں موجود قریباً 100 قانونی اداروں کے نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کرتی تھی، جو لگ بھگ 20 ہزار بچوں کو قانونی معاونت فراہم کر رہے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ وہ اس معاہدے کو کیوں ختم ہونے دے رہی ہے، تاہم یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی کو تیز کر دیا ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے ہی سال میں مہاجر بچوں کو بھی ملک سے نکالنے کے ہدف میں شامل کر لیا گیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت قانونی اداروں کو یہ اجازت حاصل تھی کہ وہ حکومتی فنڈ سے چلنے والے شیلٹرز میں جا کر بچوں کو ان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہ کریں اور امیگریشن عدالت میں کارروائی کے دوران ان کی براہِ راست نمائندگی کریں۔
لیکن معاہدہ ختم ہونے کے بعد، خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ پیر سے کیا صورتِ حال ہوگی یا آیا وہ ان شیلٹرز میں اپنے کلائنٹس سے مل سکیں گے جہاں یہ بچے رہ رہے ہیں یا نہیں۔
سٹاریلا ایل پاسو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر میلیسا لوپیز نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں کہ اگلے ہفتے ان بچوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں قانونی نمائندگی ملے گی یا نہیں۔ حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ذمہ داری کون سنبھالے گا۔‘ ان کی تنظیم اس وقت مغربی ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں 243 بچوں کی نمائندگی کر رہی ہے جو سرپرست کے بغیر امریکہ میں مقیم ہیں۔
خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ’شیلٹرز تک رسائی، اپنے کلائنٹس کی نگرانی اور نئے آنے والے بچوں کو قانونی آگاہی فراہم کرنا ایک ایسے کمزور طبقے کے لیے ایک نہایت اہم نگرانی کا نظام ہے۔‘
امریکہ میں مہاجر بچوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا معاہدہ ختم ہو رہا ہے (فائل فوٹو: این بی سی واشنگٹن)
ان کا کہنا ہے کہ ’بچوں کو اگر عدالت میں رہنمائی کے لیے وکیل میسر نہ ہوا تو امیگریشن قوانین کی پیچیدگیوں کے باعث ان کو ان کے اپنے آبائی ممالک واپس بھیجے جانے کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے، جہاں سے وہ پہلے ہی جان بچا کر آئے تھے۔‘
میلیسا لوپیز نے مزید کہا کہ ’حکومت اس پروگرام میں ہمارے کام کو ختم کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ وکلا کے بغیر بچوں کو آسانی سے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔‘
محکمہٌ صحت و انسانی خدمات نے جمعہ کے روز تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا جو حکومتی تحویل میں موجود بغیر سرپرست مہاجر بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے اور اس معاہدے کو منتظم بھی کرتا ہے۔