Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں 29 لاکھ گاڑیاں ای چالان کی نادہندہ نکلیں، واجب الادا جرمانے کا پتا کیسے چلتا ہے؟

بعض گاڑیوں کے مالکان نے سینکڑوں مرتبہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے (فائل فوٹو: پی ٹی پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تقریباً 29 لاکھ گاڑیاں ای چالان کے جرمانے ادا نہ کرنے کے باعث نادہندہ قرار دی گئی ہیں جس کے بعد ٹریفک پولیس نے ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔
لاہور ٹریفک پولیس نے ای چالان کے نادہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے سب سے زیادہ زیر التوا چالان رکھنے والی 100 گاڑیوں کی فہرست بھی فیلڈ سٹاف کو فراہم کر دی ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق لاہور میں سنہ 2020 سے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ واجب الادا ای چالان والی 29 لاکھ گاڑیاں موجود ہیں۔ 
حکام کے مطابق بعض گاڑیوں کے خلاف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ 10 گاڑیوں کے تین سو سے زیادہ ای چالان واجب الادا ہیں جبکہ 307 گاڑیوں کے خلاف دو سو سے زیادہ چالان پینڈنگ ہیں۔ اسی طرح چار ہزار سے زیادہ گاڑیوں کے خلاف 100 سے زائد ای چالان واجب الادا ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق بعض گاڑیوں کے مالکان نے سینکڑوں مرتبہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تاہم چالان تاحال ادا نہیں کیے۔

لاہور میں گاڑیوں کی تعداد کتنی ہے؟

سٹی ٹریفک پولیس کے ترجمان رانا عارف نے اردو نیوز کو بتایا کہ لاہور میں اس وقت تقریباً 83 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں۔ ان کے مطابق ’ان میں تقریباً 61 لاکھ موٹر سائیکلیں اور 17 لاکھ کاریں شامل ہیں جبکہ ہر سال تقریباً تین لاکھ گاڑیوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔‘
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ’گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام کو بھی مزید مربوط کیا جا رہا ہے۔‘

نادہندہ گاڑیوں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟

چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ای چالان نادہندہ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے اور خصوصی ٹیمیں بھی متحرک کر دی گئی ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق جن گاڑیوں کے ذمے ای چالان کے جرمانے واجب الادا ہیں، انہیں روک کر کارروائی کی جا سکتی ہے اور نادہندہ گاڑی کو تھانے منتقل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
16 ستمبر کو لاہور میں کارروائی کے دوران ایک گاڑی کے ریکارڈ میں 54 واجب الادا ای چالان سامنے آئے جن میں 32 ٹریفک سگنل اور 20 لین لائن کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ 17 ستمبر کو ٹریفک پولیس نے ای چالان میں سینچری کرنے والی موٹرسائیکل بھی پکڑی جس کے ذمہ ایک لاکھ 97 ہزار 200 روپے جرمانہ واجب الادا ہے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ’بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل کو روکنے پر جب ای چالان چیک کیے گیے تو 104 چالان واجب الادا نکل آئے۔‘ حکام کے مطابق موٹرسائیکل سوار نے 98 مرتبہ بغیر ہیلمٹ، پانچ مرتبہ لین اور لائن کی خلاف ورزی کی۔

ٹریفک پولیس کے مطابق ’20 سے زائد اقسام کی خلاف ورزیوں پر اے این پی آر سمیت کیمروں کی مدد سے ای چالان کیے جا رہے ہیں (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

نادہندگان کے لیے پولیس کی 14 سروسز محدود

ٹریفک پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ای چالان نادہندگان کے لیے پولیس کی 14 اہم سروسز کی فراہمی محدود کر دی گئی ہے۔‘
ان سروسز میں پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، جنرل پولیس ویری فکیشن، لرنر ڈرائیونگ لائسنس، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید اور ڈپلیکیٹ، انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کی ویری فکیشن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کرائم رپورٹ، گمشدگی کی رپورٹ، کرایہ دار رجسٹریشن، ملازمین کی رجسٹریشن (ROPE)، ایف آئی آر کی کاپی اور میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ بھی ان سروسز میں شامل ہیں۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق ’سیف سٹی، پولیس خدمت مراکز اور لائسنسنگ سسٹم کو ایک دوسرے سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ ای چالان کا ریکارڈ متعلقہ پولیس سروسز کے نظام سے منسلک رہے۔‘

ای چالان کیسے جاری ہوتے ہیں؟

لاہور میں ٹریفک کی متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی خودکار کیمروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق ’اس کا ای چالان نظام مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرکے الیکٹرانک چالان جاری کرتا ہے۔‘

ای چالان نادہندگان کے لیے پولیس کی 14 اہم سروسز کی فراہمی محدود کر دی گئی ہے (فائل فوٹو: پی ایس سی اے)

ٹریفک پولیس کے مطابق ’20 سے زائد اقسام کی خلاف ورزیوں پر اے این پی آر (Automatic Number Plate Recognition) سمیت کیمروں کی مدد سے ای چالان کیے جا رہے ہیں۔ ان میں ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی، غلط لین یا غلط موڑ اور ون وے کی خلاف ورزی جیسی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔‘

شہری اپنی گاڑی کا ای چالان کیسے چیک کرسکتے ہیں؟

اگر کسی شہری کو معلوم نہیں کہ اس کی گاڑی پر کوئی ای چالان واجب الادا ہے یا نہیں تو وہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ویب سائٹ پر موجود E-Challan Verification سہولت سے اپنا ریکارڈ چیک کر سکتا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اپنی ویب سائٹ پر ای چالان کی تصدیق کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ کے ذریعے بھی شہری اپنے ای چالان چیک، ڈاؤن لوڈ اور مینیج کر سکتے ہیں۔

شیئر: