کشمیر اسمبلی اجلاس: میرپور میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات، دوبارہ الیکشن اور ’کمیشن‘ کے قیام کا مطالبہ
بدھ 29 جولائی 2026 20:03
فرحان خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پاکستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں میرپور ڈویژن میں حالیہ انتخابات کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور خطے کی موجودہ سیاسی و امن و امان کی صورتِ حال کے پیش نظر بدھ کو اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں بلایا گیا جب ایک طرف الیکشن کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر تنقید کر رہی ہیں جبکہ راولاکوٹ میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی اور فائرنگ کے نتیجے میں 20 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین مقیم پاکستان کے جبکہ 10 اگست کو پُونچھ ڈویژن کے انتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حتمی نوٹیفیکیشن کے مطابق ’پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 میں سے 9 نشستوں پر مسلم لیگ ن جبکہ چار پر پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔‘
بدھ کو ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی جانب سے میرپور میں دوبارہ شفاف انتخابات کروانے اور حالات کی بہتری کے لیے ’ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن‘ کے قیام پر زور دیا گیا۔
سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان نے انتخابات کے حوالے سے ایوان میں قرارداد پیش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرپور ڈویژن میں حالیہ الیکشن میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کو فوراً دُور کر کے وہاں دوبارہ اور شفاف الیکشن کروائے جائیں۔‘
سردار محمد یعقوب خان کے مطابق ’الیکشن کمیشن کو اپنا آزادانہ کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ موجودہ صورتِ حال اور داخلی کشیدگی سے حریف ملک انڈیا کو عالمی سطح پر فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔‘
’راولاکوٹ واقعات اور وفاقی وزراء کے بیانات پر تشویش‘
اجلاس کے دوران حال ہی میں راولاکوٹ میں پیش آنے والے پُرتشدد واقعات، عوامی احتجاج اور فورسز کی کارروائیوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے اوائل میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پیر اور منگل کو راولاکوٹ میں تصادم ہوا۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ ’اس تصادم کے دوران ہمارے 20 سے زائد مظاہرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں‘ جبکہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ’چھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ‘
تاہم حکام کی جانب سے مظاہرین کی ہلاکتوں سے متعلق کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
سردار محمد یعقوب خان کی قرارداد میں وفاقی وزراء، بالخصوص وزیر دفاع خواجہ آصف کے راولاکوٹ سے متعلق حالیہ بیانات کی شدید مذمت کی گئی۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ’مقامی عوام کی حُب الوطنی اور تاریخ کو پَرکھنے والے بیانات نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔
ایوان میں زور دیا گیا کہ علاقے میں جاری کشیدگی اور املاک یا جانی نقصان کو روکنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایک ’ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن‘ تشکیل دیا جائے تاکہ مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جا سکے۔
اسی طرح رکن اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر کے عوام کے پاکستان کے ساتھ تعلق پر سوال اٹھانا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے ریاست میں مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے فوراً کمیشن قائم کر کے امن و امان کی بحالی پر زور دیا۔
اجلاس میں 5 اگست 2019 کو انڈیا کی جانب سے اپنے زیرانتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370 اور 35 اے) ختم کرنے کے اقدام کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔
حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے مشترکہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبات کیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے پر پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت کی کاوشوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔