فلکیات نظاروں کا موسم: سعودی عرب کے سیاحتی مقامات ستاروں کی روشنی سے منور
اگست میں فلک بینی کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے کئی اور منظر بھی ہوں گے(فوٹو، ایکس اکاؤنٹ)
جدہ کی فلکیاتی سوسائٹی نے بتایا ہے کہ اگست کے مہینے میں مملکت کے آسمانوں پر کئی ایک اوضائعِ فلکی بن رہی ہیں جن میں ٹوٹتے تاروں یا شہابیوں کی سالانہ بارش بھی شامل ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اِسی ماہ جزوی چاند گرہن بھی ہوگا جبکہ 12 اگست کو سورج کو مکمل گرہن لگے گا لیکن یہ وضعِ فلکی، مملکت میں نہیں دیکھی جا سکے گی۔
12 اگست کو ہونے والے سورج گرہن کا راستہ روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور سپین کے آسمانوں سے گزرے گا۔ اگرچہ یہ سورج گرہن ممکت میں نظر نہیں آئے گا لیکن اگلے برس یعنی دو اگست سنہ 2027 کو ہونے والا کسوفِ آفتاب، مملکت میں تقریباً چھ منٹ تک دیکھا جا سکے گا۔
چونکہ 12 اور 13 اگست کی درمیانی رات کو نئے چاند نے جنم لینا ہے اس لیے مملکت میں نیّر ِاصغر یعنی چاند کے نظر نہ آنے کی وجہ سے آسمان پر روشنی نہیں ہوگی بلکہ تاریکی کا دور دورہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اُس رات فی گھنٹہ 100 شہابیوں کی بارش کا امکان پایا جاتا ہے جو مملکت کے کچھ حصوں میں آسمان کی تاریکی کی وجہ سے بہت صاف نظر آئے گی۔
اگست کے مہینے کے آخر میں یعنی 27 اور 28 اگست کی درمیان رات جزوی چاند گرہن ہوگا جس سے چاند کا تقریباً 93 فیصد قطر تاریکی میں ڈوب جائے گا۔

یہ منظر، مملکت کے مغربی فلک پر اِس وضع کے بننے کے ابتدائی مراحل ہی میں دکھائی دینا شروع ہوجائے گا۔
اگست میں فلک بینی کے شوقین اور ستاروں کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے دیکھنے کے کئی اور منظر بھی ہوں گے جن میں ستاروں کے بجائے سیارے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہوں گے۔
اِن علوِئین کواکب میں زحل، مشتری اور مریخ تو شامل ہوں گے لیکن اُن کے ساتھ زہرہ کی نگاہیں بھی ٹکرائیں گی۔ ساتھ ساتھ، یہ زمانہ موسمِ گرما سے سرما کی جانب منتقلی کے آغاز کا نقیب بھی ہوگا۔