Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوات خودکش دھماکہ: بہن کی شادی میں شرکت کیلئے وطن آنے والے ڈاکٹر معاذ خان شادی سے ایک دن پہلے دھماکے کا شکار

ڈاکٹر معاذ خان نے چھٹی اس لیے لی تھی کہ وہ 4 اگست کو اپنی بہن کی شادی میں شریک ہو سکے لیکن وہ اپنی بہن کی شادی سے ایک روز قبل ہی سوات کی تحصیل کبل میں ہونے والے دھماکے میں جان سے چلے گئے۔
اتوار کے روز سوات کی تحصیل کبل میں کبل پولیس سٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب خودکش دھماکہ ہوا۔ اس وقت کبل چوک میں اولسی پاسون کی جانب سے امن کے لیے پرامن مظاہرہ جاری تھا۔
مالاکنڈ ڈویژن کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) سید فدا حسین شاہ کے مطابق خودکش حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاہم ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے مرکزی گیٹ پر ہی روک لیا جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
فدا حسین شاہ کے مطابق حتمی طور پر 5 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد جان سے گئے اور 14 اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی پولیس تحقیقات کے مطابق جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر برآمد ہوا ہے۔
اس دھماکے میں سوات کی تحصیل کبل کے رہائشی ڈاکٹر معاذ خان بھی جان سے چلے گئے۔ ڈاکٹر معاذ خان چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ وہ ان سب میں بڑے تھے۔ انہوں نے رومانیہ سے ویٹرنری میڈیسن (ڈی وی ایم) کی چار سالہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد ماسٹرز کی تعلیم جاری رکھی تاہم اس دوران بہن کی شادی کے لیے وہ واپس پاکستان آئے۔ ان کے چچا زاد بھائی انور زیب نے اردو نیوز کو بتایا کہ معاذ نے سوچا تھا کہ 4 اگست کو ہونے والی اس شادی کے موقع پر وہ گھر میں وقت بھی گزارے لے گا اور بہن کی خوشیوں میں بھی شریک رہے گا جس کے لیے وہ شادی سے 20 روز قبل ہی وطن واپس آ گیا تاکہ تیاریوں میں ہاتھ بٹا سکے۔ ان کے بقول ’خاندانی روایت کے مطابق جب شادی کے موقع پر لڑکے والے مہمان بن کر آتے ہیں تو ان کی خاطر تواضع کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اتوار کے روز بھی ایسا ہی ایک موقع تھا۔ لڑکے والے مہمان بن کر آئے تھے اور شام کی دعوت کے لیے سودا لانے کے لیے معاذ خود بازار گیا۔ جب وہ گھر سے نکلے تو کچھ ہی دیر بعد دھماکہ ہوا۔‘
ان کے مطابق معاذ کے والد سانحے کی خبر سننے کے بعد سے گھر کے ایک الگ کمرے میں بیٹھے ہیں اور کسی سے بات کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
’کسی کو ان کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ جو شادی کل یعنی 4 اگست کو ہونا تھی اب اس سانحے کے باعث ملتوی کر دی گئی ہے۔‘

’لوگ ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے‘

کبل کے مقامی رہائشی محمد ہلال دھماکے کے فوراً بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ کئی زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے علاوہ متعدد جان سے جانے والے افراد کو غسل بھی دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق آج کے روز کبل بازار مکمل بند رہا اور فضا سوگوار تھی جبکہ جہاں دھماکہ ہوا ہے وہ جگہ انتظامیہ نے سیل کر دی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا ’جان سے جانے والے مقامی افراد سوات کے مختلف علاقوں شاہ ڈیرئی، توتانو بانڈئی، کبل اور مرچکو سمیت دیگر مقامات سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے کئی امن ریلی کا حصہ بھی نہیں تھے بلکہ کسی اور کام سے وہاں موجود تھے یا وہاں سے گزر رہے تھے۔‘

اس دھماکے میں سوات کی تحصیل کبل کے رہائشی ڈاکٹر معاذ خان بھی جان سے چلے گئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

’آج اس واقعے کے بعد لوگ ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے، سب غمزدہ ہیں۔ کئی گھر اجڑ گئے ہیں، کئی ماؤں کی گود سونی ہو گئی ہے۔ ہم تو بس یہی کہتے ہیں کہ اب اس ملک میں امن آ جائے۔‘

’میں نے سب کو کہا کھڑے رہیں‘

جینگی خیل سوات کے رہائشی اور سیاسی کارکن غیرت یوسفزئی اس وقت امن ریلی میں تقریر کر رہے تھے جب دھماکہ ہوا۔ یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے غیرت پشتونخوا ملی عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ ہیں اور مزاحمتی سیاست میں سرگرم ہیں۔
ان کے بقول انہیں اولسی پاسون کے احتجاج میں باقاعدہ دعوت نہیں دی گئی تھی بلکہ وہ بطور مقامی رہائشی وہاں پہنچے تھے۔ اتفاق سے ان کی تقریر آخری تھی اور اسی دوران دھماکہ ہو گیا۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا ’دھماکے کے فوری بعد میرے ذہن میں بہت سارے خیالات آئے۔ میں نے سوچا کہ اگر اس وقت سب بھاگنے لگیں اور کھڑے نہ رہیں تو لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور جو اندھیروں کے حامی ہیں وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی لیے میں نے سب کو آواز دی کہ کھڑے رہیں۔‘
غیرت یوسفزئی کے مطابق احتجاج ان کا شوق نہیں بلکہ مجبوری ہے۔
’یہاں روزانہ کی بنیاد پر دھماکے ہو رہے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ہمارے لوگ طبعی موت سے زیادہ ان شرپسندوں کی وجہ سے مرتے ہیں۔ اگر ہمیں احتجاج سے منع کیا جاتا ہے تو کیا ہم بندوق اٹھا لیں؟ ہمارا آئین ہمیں اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا البتہ احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور ہم اسی آئین کے مطابق اپنا حق استعمال کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا خاندان سیاسی پس منظر رکھتا ہے اور انہیں ہر طرف سے حوصلہ دیا جاتا ہے تاہم بطور انسان وہ موت، دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے خوف سے مبرا نہیں ہیں۔
’میں انسان ہوں اور انسان فطرتی طور پر موت، دھماکہ، ٹارگٹ کلنگ سے ڈرتا ہے لیکن ہمارے لوگ مجبور ہیں اور ان کے حالات ہمیں نکلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔‘ 

شیئر: