’بہت پیسہ بنا لیا، کچھ عوام کو واپس کریں‘، صدر ٹرمپ آئل کمپنیوں پر برہم
’بہت پیسہ بنا لیا، کچھ عوام کو واپس کریں‘، صدر ٹرمپ آئل کمپنیوں پر برہم
منگل 4 اگست 2026 7:10
ایران جنگ کے بعد امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ حالات میں تیل کی بڑی کمپنیوں پر ’بہت زیادہ پیسہ بنانے‘ کا الزام لگاتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ ان کو ’اس میں سے کچھ عوام کو واپس کرنا چاہیے۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تیل کی صنعت کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس سے ان کی دوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے ایکسون اور شیورون کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتا۔‘
تین روز قبل ہی کمپنیوں کے دوسری سہ ماہی کے منافع کے حوالے سے رپورٹ سامنے آئی تھی جو کہ کافی بلند تھا جبکہ دوسری جانب ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بھی بلندی پر ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’شیورون اور ایکسون موبل بہت زیادہ پیسہ کما رہی ہیں۔‘
اس بیان کے بعد دونوں کمپنیوں کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی عوامی دباؤ کو کارپوریٹ سیکٹر کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں بڑھنے میں کمپنیوں کا کردار نہیں بلکہ آبی گزرگاہوں کی صورت حال ہے (فوٹو: اے ایف پی)
وہ عموماً سوشل میڈیا یا صحافیوں سے گفتگو کے ذریعے براہ راست کمپنیوں کو ہدف بناتے رہے ہیں۔
اپنے پہلے دور صدارت میں انہوں نے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ امریکہ میں پیداوار کا سلسلہ برقرار رکھیں، اسی طرح ڈیفنس کنٹریکٹرز کے اخراجات کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں جبکہ دواساز کمپنیوں پر قیمتیں کم کرنے کے دباؤ ڈالا۔
انہوں نے پیر کو فوکس نیوز کے پروگرام میں شیورون کے چیف ایگزیکٹیو مائیک ورتھ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
بعدازاں انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ اس بات کا ذکر کرنا بھول گئے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی ذہانت، دور اندیشی، طاقت اور استحکام نہ ہوتا تو تیل کی صنعت بلکہ ملک تک ختم ہو چکے ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے ایکسون اور شیورون کمپنیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید لکھا کہ ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے مائیک اور شیورون کو وینزویلا سے باہر نکال دیا تھا، مگر اب وہ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ واپس آ گئے ہیں اور بڑی کمائی کر رہے ہیں۔
شیورون کمپنی ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے وینزویلا میں کام کر رہی ہے، جب سابق صدر ہیوگو شاویز نے 2007 میں تیل کے پراجیکٹس کو قومی تحویل میںلیا تو شیورون نے ملک کے اندر کام جاری رکھا جبکہ ایکسون، موبل اور کونوکو فپلس نے ملک سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔
تیل کی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت تیل کی جو صورت حال چل رہی ہے اور قیمتیں زیادہ ہیں تو اس میں کسی کمپنی کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ آبنائے ہرمز سمیت دیگر اہم بحری راستوں کے حوالے سے غیریقینی کی صورت حال ہے۔