آسٹریلیا: 150 سال بعد لائبریری کو واپس ملنے والی کتاب، ’جرمانہ 28 ہزار ڈالر بنتا ہے‘
آسٹریلیا: 150 سال بعد لائبریری کو واپس ملنے والی کتاب، ’جرمانہ 28 ہزار ڈالر بنتا ہے‘
منگل 4 اگست 2026 14:47
لائبریری کے پاس 1870 کی دہائی کے کتابیں لے جانے والوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہے (فائل فوٹو: اے پی)
آسٹریلیا کی ایک پبلک لائبریری کو 150 برس کی تاخیر کے بعد یونانی تاریخ و آثارِ قدیمہ سے متعلق ایک نایاب کتاب واپس موصول ہوئی ہے جو دہائیوں تک ایک بند آتش دان میں اینٹوں کے پیچھے دبے رہنے کی وجہ سے پانی سے متاثر ہو چکی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ آسٹریلیا کے ساحلی قصبے ’کیاما‘ کا ہے جہاں روس سمنز نامی ایک مقامی شہری کو اپنے گھر کی مرمت کے دوران ایک اینٹ سے بند کیے گئے آتش دان کے اندر چائے کے لکڑی کے کریٹ سے یہ کتاب ملی جس کے بعد انہوں نے اسے لائبریری کے حوالے کر دیا۔
کیاما لائبریری کی مینیجر مشیل ہڈسن نے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس اتنی پرانی کوئی چیز کبھی واپس نہیں آئی۔ میں اکثر سوشل میڈیا پر دیگر لائبریریوں کو دیکھتی ہوں جہاں 30 یا 40 سال پرانی کتابیں ترکے کی صفائی کے دوران ملتی ہیں لیکن 150 سال ایک غیر معمولی بات ہے۔‘
روس سمنز نے بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ یہ کتاب ان کے پردادا کے والد جان سمنز نے حاصل کی تھی جو اس زمانے میں اس گھر کے مالک تھے۔
ان کا کہنا تھا ’میرا ایک اندازہ ہے کہ وہ اس وقت اس کاٹیج میں رہائش پذیر تھے، کیونکہ اس وقت ان کے بچے بہت چھوٹے تھے۔‘
کتاب کی تاریخ اور جرمانہ
کیاما لائبریری کا قیام 1872 میں عمل میں آیا تھا اور 1858 میں شائع ہونے والی یہ کتاب ’اینٹیکوٹییز آف ایتھنز‘ لائبریری کے ابتدائی 1000 کتب کے ذخیرے میں 506 نمبر پر درج تھی۔
لائبریری مینیجر مشیل ہڈسن کا شک ہے کہ یہ کتاب لائبریری کھلنے کے چند سالوں کے اندر ہی گم ہو گئی تھی۔
مشیل ہڈسن کے مطابق اگر مہنگائی کا حساب لگایا جائے تو اتنی طویل تاخیر کا جرمانہ لگ بھگ 28 ہزار آسٹریلین ڈالر (قریباً 19 ہزار 500 امریکی ڈالر) بنتا ہے۔ یہ حساب کتاب کے اندرونی سرورق پر درج اس زمانے کے اصولوں کے مطابق لگایا گیا جس میں تاخیر پر 3 پینس فی ہفتہ جرمانہ مقرر تھا۔
تاہم لائبریری کے پاس 1870 کی دہائی کے کتابیں لے جانے والوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
اس نایاب اور تاریخی کتاب کو مقامی تاریخ کے شعبے میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا (فوٹو: اے پی)
مشیل ہڈسن کا کہنا تھا ’بدقسمتی سے ہمارے پاس درمیانی کڑی غائب ہے۔ کتاب پر ایسا کچھ درج نہیں جس سے آخری بار اسے لے جانے والے شخص کی شناخت ہو سکے۔‘
1870 کی دہائی کے قوانین کے مطابق نئی کتاب حاصل کرنے کے لیے پرانی کتاب کی واپسی اور جرمانے کی ادائیگی لازمی تھی۔
مشیل ہڈسن نے مزاحیہ انداز میں کہا ’شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسے کبھی واپس ہی نہیں کیا۔‘
عجیب و غریب پرانے قوانین
اس دور کے دلچسپ اور قدامت پسندانہ قوانین میں یہ بھی شامل تھا کہ ایک گھرانے کو صرف اس صورت میں تین کتابیں مستعار دی جاتی تھیں اگر اس کے کم از کم چھ افراد ’پڑھنا جانتے ہوں۔‘ تاہم موجودہ دور میں لائبریری کے استعمال کے لیے پڑھنے کی قابلیت کا ایسا کوئی ثبوت درکار نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ 1870 کی دہائی میں نشے کی حالت میں لائبریری آنے والوں کو کتابیں جاری نہیں کی جاتی تھیں۔ آج کے دور میں اگر کسی کا رویہ دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بنے تو اسے جانے کا کہا جاتا ہے لیکن نشے کے حوالے سے کوئی خاص قانون درج نہیں۔
77 سالہ روس سمنز کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی خوف نہیں تھا کہ لائبریرین ان کے خاندان کے اتنے پرانے قرض کی وجہ سے ان سے ناراض ہوں گے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ’میں نے اپنی پوری زندگی ناراض گاہکوں سے نمٹنے میں گزاری ہے، ایسے میں انسان کو اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ ’جو کر سکتے ہو کر لو۔‘
لائبریری نے فیصلہ کیا ہے کہ اس نایاب اور تاریخی کتاب کو مقامی تاریخ کے شعبے میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔
مشیل ہڈسن کا کہنا تھا ’ہم اسے دوبارہ کسی کو پڑھنے کے لیے باہر لے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اس کتاب کی واپسی کے لیے مزید 150 سال انتظار نہیں کر سکتے۔‘