بلوچستان کے ضلع خضدار میں رشتے سے انکار پر اسما جتک نامی خاتون کے اُدھیڑ عمر والد کو قتل کردیا گیا۔
اسما جتک نے دھمکیاں ملنے پر چند گھنٹے قبل ہی سوشل میڈیا پر خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
لواحقین نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ’مبینہ ملزم نے حالیہ تنازعے میں خاندان کا تیسرا اور مجموعی طور پر چھٹا فرد قتل کیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
مغوی خاتون کی بازیابی کے لیے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرناNode ID: 885545
پولیس کے مطابق اسما جتک کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک کو منگل کے روز خضدار کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
لواحقین کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ماسٹر عنایت اللہ عصر کی نماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلے تھے۔
مقتول کے بیٹے عطا اللہ جتک نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فائرنگ ان کے گھر کے قریب پولیس لائن سے چند قدم کے فاصلے پر ہوئی۔‘
ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی نے واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے محرکات کا تاحال علم نہیں۔
عطا اللہ جتک نے الزام عائد کیا ہے کہ ’فائرنگ مبینہ طور پر ظہور جمال زئی نامی شخص نے کی جو گاڑی میں سوار تھا اور فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔‘
ان کے مطابق ملزم سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور قبائلی نواب کے نائب کا بھائی اور ذاتی محافظ ہے۔ تاہم سابق وزیراعلیٰ نے گزشتہ سال اسما جتک کے اغوا کے واقعہ کے بعد ظہور جمال زئی سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے واقعہ کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی تھی۔
خضدار انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب چند گھنٹے قبل اعلیٰ سکیورٹی اہل کاروں، سرکاری اور پولیس افسروں نے اس علاقے کا دورہ بھی کیا تھا۔

خصدار کے اس علاقے میں پولیس لائن کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سمیت اہم قبائلی شخصیات کی رہائش گاہیں بھی واقع ہیں اور یہ علاقہ شہر کا ریڈ زون تصور کیا جاتا ہے۔
اسما جتک نے اپنے والد کے قتل سے محض ایک روز قبل قرآن اُٹھا کر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری، ان کے بھائی نعمت اللہ زہری اور دیگر حکام سے اپنے والد اور بھائی کی جان کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے براہوی زبان میں اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ’گذشتہ سال اغوا کے باوجود انہیں انصاف نہیں مل سکا اور اب بھی ملزم کی جانب سے رشتہ نہ دینے پر ان کے والد اور بھائی کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘
ان کے مطابق، ملزم نے دوبارہ اغوا کی دھمکی دی اور والد سے کہا کہ ’اپنے لیے کفن تیار کرلو۔‘
واضح رہے کہ فروری 2025 میں اسما جتک کو اغوا کیا گیا تھا اور ان کا اس دوران ہی ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا تاہم بازیابی کے بعد اسما جتک نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ بیان ان سے زبردستی دلوایا گیا تھا۔
اسما جتک نے تازہ ویڈیو بیان میں قسم اُٹھا کر کہا کہ ’اُن کا ظہور جمال زئی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ان کے ساتھ ظلم کرنے کے علاوہ ان کے خاندان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

مقتول کے بیٹے اور اسما جتک کے بھائی عطا اللہ جتک کے مطابق، ملزم ظہور جمال زئی گذشتہ کئی روز سے فون اور واٹس ایپ کے ذریعے ان کے والد کو دھمکیاں دے رہا تھا، اور واقعے سے ایک روز قبل بھی بار بار فون کر کے کہا تھا کہ اگر بیٹی کا رشتہ اس کے ساتھ نہ کیا گیا تو کفن کا بندوبست کر لیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان دھمکیوں کے پیشِ نظر ہی ان کی بہن اسما جتک نے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کر کے حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔‘
تاہم عطا اللہ جتک کا کہنا ہے کہ ’اُن کی بہن کی یہ اپیل بھی بے اثر رہی اور کسی نے ایک بے بس بیٹی کی بات نہیں سنی۔‘
خاندان کا کہنا ہے کہ ’ملزم کی دھمکیوں کے باعث وہ گذشتہ تیرہ برس سے 28 برس کی اسما کا رشتہ کہیں طے نہیں کر سکے کیونکہ ملزم نے دھمکی دے رکھی تھی کہ اُس کا اگر کسی اور جگہ رشتہ طے کیا گیا تو وہ ہونے والے شوہر کو بھی قتل کر دے گا۔‘
عطا اللہ جتک کے مطابق انہوں نے بلوچستان کے گورنر، وزیراعلیٰ، آئی جی پولیس، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی خضدار سمیت تمام متعلقہ اداروں کو درخواستیں دیں تاہم مینہ ملزم کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
عطا اللہ جتک پی ایچ ڈی سکالر اور یونیورسٹی آف لسبیلہ میں لیکچرار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے تدریس چھوڑ کر بہن کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کیا، پاکستان کا کوئی ادارہ نہیں چھوڑا جہاں درخواست نہ دی ہو۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو پانچ مرتبہ درخواستیں دیں مگر ہماری کسی نے نہ سنی اور آج ہمیں اپنے والد کی لاش اٹھانا پڑی۔ ہم اب انصاف کے حصول کے لیے کون سا در کھٹکھٹائیں۔‘

عطا اللہ جتک کے مطابق، یہ سلسلہ سال 2011 میں اُس وقت شروع ہوا جب اسما جتک کا رشتہ ان کے پھوپھی زاد بھائی عبدالسلام سے طے پایا جو خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی میں سول انجینئرنگ کے آخری سمسٹر کے طالبعلم تھے۔ ظہور جمال زئی زبردستی اسما جاتک سے رشتہ جوڑنا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’رشتے کا پیغام مسترد کیے جانے پر اس نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور سال 2013 میں اسما جتک کے منگیتر عبدالسلام کو قتل کر دیا۔‘
ان کے مطابق، اس قتل اور مسلسل دھمکیوں کے باعث ہمارے خاندان نے آبائی علاقے انجیرہ ضلع سوراب سے نقل مکانی کی اور خضدار منتقل ہوا لیکن دھمکیوں کا سلسلہ نہیں رُکا۔
انہوں نے بتایا کہ ’فروری 2025 میں ظہور جمال زئی مبینہ طور پر 20 سے زائد مسلح افراد کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا، گھر والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسما جتک کو زبردستی اغوا کر لیا۔
اس واقعے کے خلاف خاندان، خضدار کے سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی نے کوئٹہ-کراچی شاہراہ بند کر کے دو روز تک دھرنا دیا جس کے بعد معاملہ سوشل میڈیا اور قومی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا اور حکومت پر دباؤ بڑھا۔
بعد ازاں حکومتی مداخلت پر لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا تاہم ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔
خاندان کے مطابق، نومبر 2025 میں اسما جتک کے اغوا کے خلاف احتجاج میں پیش پیش ان کے ماموں محمد اشرف کو بھی خضدار میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
مارچ اور جون 2025 میں خضدار میں دو الگ الگ واقعات میں قتل ہونے والے جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے تین رہنماؤں وڈیرہ غلام سرور موسیانی، مولانا امان اللہ اور کامران جتک کے لواحقین کا بھی یہ الزام ہے کہ اس واقعہ میں ظہور جمال زئی اور ان کے سرپرست ملوث ہیں۔
وڈیرہ غلام سرور موسیانی کے بھائی وڈیرہ وہاب موسیانی کا کہنا ہے کہ ’ان کے بھائی سمیت جے یو آئی کے تینوں رہنماؤں کو اسما جتک کے اغوا اور زبردستی رشتہ جوڑنے کے واقعہ کے خلاف آواز بلند کرنے پر قتل کیا گیا۔ بارہا احتجاج اور درخواستوں کے باوجود ملزم اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘
اسما جتک کے ویڈیو بیان اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعہ پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔













