لاہور ہائیکورٹ نے افغان طلبہ کو میڈیکل کالجز و یونیورسٹیز سے نکالنے کے خلاف حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے بے دخلی روک دی ہے۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے میں افغان طلبہ کو تعلیمی اداروں سے نکال کر واپس بھجوانے کا کہا گیا تھا۔
اقدام کے خلاف افغان طلبہ کی جانب سے دی گئی درخواستوں کی سماعت جمعے کو لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عدالتی فیصلے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ ’100 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کو کالجوں سے نکالنے کے خلاف جاری کیے گئے حکم امتناعی میں اگلی سماعت تک توسیع کر دی گئی ہے۔‘
جسٹس خالد اسحاق کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں اگلی سماعت کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
بلوچستان کی ایک عدالت ایسی ہی ایک درخواست کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہے جبکہ سندھ میں ایک اور درخواست زیر سماعت ہے۔
خیال رہے رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے تعلیمی اداروں کو ایک خط بھجوایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی ’سہولت فراہم کرنے‘ کی اجازت نہیں ہے۔
اس حکم کے بعد افغان طلبہ میں تشویش کی شدید لہر پائی گئی اور ایک طالب علم نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے ایسا لگا جیسے میری ڈاکٹر بننے کی امیدیں دم توڑ گئی ہوں۔‘
مزید پڑھیں
-
پاکستان کا 4500 افغان طلبہ کو تعلیمی وظائف دینے کا اعلانNode ID: 719056
رپورٹ کے مطابق پی ایم ڈی سی کے خط میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ میڈیکل کونسل کس اختیار کے تحت یہ فیصلہ کر رہی ہے تاہم یہ بتایا گیا کہ ’یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور قومی پالیسی کی ہدایات سے متعلق ہے۔‘
2021 میں کابل میں طالبان کی دوبارہ حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جبکہ دونوں کے درمیان کئی ہفتے تک جاری رہنے والے جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران 25 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان سے بھجوایا گیا ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو کئی دہائیوں تک پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ نے حکام پر زور دیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کا حکم واپس لیا جائے۔
ادارے کی جانب سے خاص طور پر ان افغان خواتین کی مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کو افغانستان میں تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کو ایک ’امتیازی اور من مانا‘ اقدام قرار دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دینے والوں میں وہ 23 سالہ طالبہ بھی شامل ہیں جن کی دوسرے سال کی تعلیم مکمل ہونے میں چند دن باقی تھے اور ان کو بتایا گیا کہ انہیں تعلیمی سلسلہ چھوڑ کر واپس جانا ہو گا۔
11 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی سطح پر طلبہ کی بے دخلی کا حکم معطل کر دیا دیا تھا۔
تاہم مذکورہ طالبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے آن لائن پلیٹ فارم سے ان کا تعلیمی ریکارڈ ہٹا دیا گیا ہے۔
سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے والی طالبہ نے اے ایف پی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹی میں داخلوں پر پابندی کے بعد جن خواتین کو تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی ان میں وہ بھی شامل تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس سفر سے یہ سیکھا ہے کہ اداس ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، میں ہمت نہیں ہاروں گی۔‘
وہ ان 20 طلبہ میں شامل تھیں جنہوں نے پاکستان کا سکالرشپ حاصل کیا تھا۔ اس سکالرشپ کے لیے 30 ہزار سے زائد درخواستیں دی تھیں۔
لاہور میں طلبہ کے وکلا میں شامل اسد جمال نے پی ایم ڈی سی کے احکامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طلبہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔













