Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے تعلیمی اداروں سے بے دخلی، افغان طلبہ کی امیدیں آج کی سماعت سے وابستہ

پاکستان میں زیرتعلیم کئی طلبہ نے اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ڈاکٹر بننے کے لیے پاکستان آنے والے درجنوں افغان طلبہ کو امید ہے کہ جمعے کو ہونے والی سماعت میں میڈیکل بورڈ کا وہ حکم واپس لے لیا جائے گا جس کے تحت ان کو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکال کر واپس بھجوانے کا کہا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے تعلیمی اداروں کو ایک خط بھجوایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں کو افغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی ’سہولت فراہم کرنے‘ کی اجازت نہیں ہے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان میں پاکستان میں موجود میڈیکل یا ڈینٹل پروگرامز میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو واپس جانا ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق خط میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میڈیکل کونسل کس اختیار کے تحت یہ فیصلہ کر رہی ہے تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ ’یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور قومی پالیسی کی ہدایات سے متعلق ہے۔‘
2021 میں کابل میں طالبان کی دوبارہ حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جبکہ دونوں کے درمیان کئی ہفتے تک جاری رہنے والے جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران 25 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان سے بھجوایا گیا ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو کئی دہائیوں تک پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ حکام پر زور دیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کا حکم واپس لیا جائے۔
ادارے کی اجنب سے خاص طور پر ان افغان خواتین کی مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کو افغانستان میں تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کو ایک ’امتیازی اور من مانا‘ اقدام قرار دیا ہے۔
پی ایم ڈی سی کے اعلان کے بعد افغان طلبہ کی جانب سے کئی عدالتوں میں درخواستیں دائر کی گئیں، جن پر سماعت جمعے کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہو رہی ہے جس میں درجنوں طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ متوقع ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق موجودہ تعلیمی سیشن میں کو افغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی ’سہولت فراہم کرنے‘ کی اجازت نہیں ہے (فوٹو: پی ایم ڈی سی)

علاوہ ازیں بلوچستان کی ایک عدالت نے ایسی ہی ایک درخواست کر دی تھی جبکہ سندھ میں  ایک درخواست زیر سماعت ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے والوں میں وہ 23 سالہ طالبہ بھی شامل ہیں جن کی دوسرے سال کی تعلیم مکمل ہونے میں چند دن باقی تھے اور ان کو بتایا گیا کہ انہیں تعلیمی سلسلہ چھوڑ کر واپس جانا ہو گا۔
11 ستمبر کو ایک عدالت نے صوبائی سطح پر طلبہ کی بے دخلی کا حکم معطل کر دیا دیا تھا تاہم طالبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے آن لائن پلیٹ فارم سے ان کا تعلیمی ریکارڈ پہلے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے والی طالبہ نے اے ایف پی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹی میں داخلوں پر پابندی کے بعد جن خواتین کو تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی ان میں وہ بھی شامل تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس سفر سے یہ سیکھا ہے کہ اداس ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، میں ہمت نہیں ہاروں گی۔‘
وہ پاکستان سکالرشپ حاصل کرنے والی 20 افغان طالبات میں شامل تھیں جبکہ اس کے لیے 30 ہزار درخواستیں دی گئی تھیں۔
لاہور میں طلبہ کے وکلا میں شامل اسد جمال نے پی ایم ڈی سی کے احکامات کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ افغان طلبہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔

پچھلے ہفتے لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں کو افغان طلبہ کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا (فوٹو: اے پی پی)

خبر رساں ادارے کے مطابق پی ایم ڈی سی کو تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔
اسد جمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر افغان طلبہ لاہور میں ناکام ہوتے ہیں تو معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔
لاہور میں آخری سال کے طالب عللم مبین الفاتی ہسپتال میں ڈیوٹی کر کے واپس آئے ہی تھے کہ ان کو ملک چھوڑنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی گئی۔
ان کا کہنا ہے ’ہم میڈیکل کے طالب علم ہیں، ہمیں اچانک ملنے والی افسوسناک خبروں سے نمٹنا آتا ہے مگر اس خبر سے نمٹنا آسان نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق ’یہ میری ڈاکٹر بننے کی امیدوں کی موت کے مترادف ہے۔‘

شیئر: