پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے چند روز قبل اغوا کیے جانے والے چھ غیر مقامی مزدوروں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واقعہ کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی مزدور ہیں جنہیں پیر کی شام ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے علاقے کلاتک سے اغوا کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
کلاتک کے ایس ایچ او داد بخش نے بتایا کہ لاشیں تربت شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ناصر آباد میں ایک سکول کے قریب سے ملی ہیں۔
ان کے مطابق ’مقتولین کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور انہیں جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں ماری گئی تھیں۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق قتل کیے گئے مزدوروں کی شناخت ارشد ولد رفیق، تیمور ولد رفیق، پرویز ولد بشیر احمد، وزیر ولد رمضان، یحییٰ ولد نوروز خان اور امجد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مقتولین میں سے چار افراد کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔
تربت پولیس کے ایک سینیئر افسر نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو پیر کی شام تربت کے نوواھی علاقے کلاتک کے مقام سے اس وقت اغوا کیا گیا جب مسلح شدت پسندوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

ان کے مطابق ‘ان مزدوروں کی گاڑی کو اس وقت روکا گیا جب وہ ایک مقامی تحصیلدار کے گھر تعمیراتی کام ختم کرنے کے بعد اپنے رہائشی کوارٹر کی طرف جا رہے تھے۔ مسلح افراد نے گاڑی سے سات مزدوروں کو اتارا۔‘
پولیس افسر نے مزید بتایا کہ مسلح افراد نے کچھ دیر بعد ہی خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور جاوید خان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ باقی چھ مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے جن کی لاشیں اب برآمد ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی جب سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچیں تو مسلح افراد اور فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کی زد میں آ کر عبدالرزاق نامی ایک مقامی راہگیر بھی ہلاک ہو گیا تھا۔
ایران کی سرحد اور گوادر ، آواران اور پنجگور کے اضلاع سے ملحقہ کیچ بلوچستان میں بے امنی اور شورش سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں اور ماضی میں بھی غیر مقامی مزدوروں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔













