Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: تربت سے اغوا ہونے والے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد

مقتولین میں سے چار افراد کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے چند روز قبل اغوا کیے جانے والے چھ غیر مقامی مزدوروں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واقعہ کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی مزدور ہیں جنہیں پیر کی شام ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے علاقے کلاتک سے اغوا کیا گیا تھا۔
تھانہ ناصر آباد کے ایس ایچ او داد بخش نے بتایا کہ لاشیں تربت شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ناصر آباد میں ایک سکول کے قریب سے ملی ہیں۔
ان کے مطابق ’مقتولین کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور انہیں جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں ماری گئی تھیں۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام چھ مزدوروں کی شناخت ہو گئی ہے جن میں سے چار کا تعلق پنجاب اور دو کا خیبر پختونخوا سے ہے۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں بہاولپور کے تین رہائشی محمد تیمور ولد محمد رفیق، محمد وزیر ولد محمد رمضان اور محمد پرویز ولد بشیر احمد کے علاوہ ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور کے رہائشی محمد ارشد ولد محمد رفیق شامل ہیں۔
 جبکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں بونیر کے امجد خان ولد زری بان شاہ اور صوابی کے یحییٰ ولد نوروز خان شامل ہیں۔
مقتولین میں سے چار افراد کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔
تربت پولیس کے ایک سینیئر افسر نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو پیر کی شام تربت کے نوواھی علاقے کلاتک کے مقام سے اس وقت اغوا کیا گیا جب مسلح شدت پسندوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔
ان کے مطابق ‘ان مزدوروں کی گاڑی کو اس وقت روکا گیا جب وہ ایک مقامی تحصیلدار کے گھر تعمیراتی کام ختم کرنے کے بعد اپنے رہائشی کوارٹر کی طرف جا رہے تھے۔ مسلح افراد نے گاڑی سے سات مزدوروں کو اتارا۔‘
پولیس افسر نے مزید بتایا کہ مسلح افراد نے کچھ دیر بعد ہی خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور جاوید خان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ باقی چھ مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے جن کی لاشیں اب برآمد ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی جب سکیورٹی فورسز موقعے پر پہنچیں تو مسلح افراد اور فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کی زد میں آ کر عبدالرزاق نامی ایک مقامی راہگیر بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

ایس ایچ او داد بخش کے مطابق لاشیں تربت شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ناصر آباد سے ملی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایران کی سرحد اور گوادر ، آواران اور پنجگور کے اضلاع سے ملحقہ  کیچ بلوچستان میں بے امنی اور شورش سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں اور ماضی میں بھی غیر مقامی مزدوروں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اپریل 2024 میں تمپ میں دو مزدوروں، اکتوبر 2023 میں تربت میں دو مختلف واقعات کے دوران 10 غیر مقامی مزدوروں کو قتل کیا گیا تھا۔
نومبر 2017 میں پاک ایران سرحد کے قریب سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پنجاب کے 15 باشندوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2015 تربت کے علاقے گوکدان میں مزدوروں کے ایک کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 20 مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔
جولائی 2012  میں اس ضلع میں ایک ہی واقعے میں 18 غیر مقامی افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔
علاقے میں سرگرم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)  جیسی تنظیمیں سکیورٹی فورسز اور غیر مقامی افراد پر ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں تاہم تازہ واقعہ کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔

 

شیئر: