پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی کے سائے میں الیکشن، کہیں احتجاج تو کہیں پولنگ ملتوی
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی کے سائے میں الیکشن، کہیں احتجاج تو کہیں پولنگ ملتوی
اتوار 2 اگست 2026 8:49
فرحان احمد خان۔ اردو نیوز، مظفرآباد
الیکشن کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفرآباد ڈویژن کے تین اضلاع (مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی) کی 9 میں سے 8 اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل شدید کشیدگی، سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے سائے مکمل ہو گیا ہے۔
اس وقت ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
اس مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے 9 حلقوں میں 207 اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں (6 کشمیر ویلی اور 6 جموں) پر 137 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ ڈویژن میں کل 8 لاکھ 95 ہزار سے زائد ووٹرز کے لیے 1483 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے۔ جن میں سے 533 کو حساس ترین قرار دیا گیا جبکہ مہاجرین کے 4 لاکھ 38 ہزار سے زائد ووٹرز کے لیے 1057 پولنگ سٹیشنز بنائے گئے۔
تاہم یہ الیکشن ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں گزشتہ دو ماہ سے شدید اضطراب پھیلا ہوا ہے۔ جون کے اوائل میں کالعدم قرار دی گئی 'جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی' کی جانب سے حقوق کی تحریک اور الیکشن کے بائیکاٹ کی مہم جاری ہے جبکہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 40 سے زائد شہری اور کم از کم 5 سکیورٹی اہلکار جان سے جا چکے ہیں۔
مظفرآباد میں جھڑپیں اور راستوں کی بندش
دارالحکومت مظفرآباد میں جمعرات کو 54 دن بعد انٹرنیٹ سروسز بحال کی گئی تھیں لیکن حالات بگڑنے پر انہیں 24 گھنٹے کے اندر دوبارہ بند کر دیا گیا۔
گزشتہ تین دنوں کے دوران شہر کے علاقوں لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی، طارق آباد، نیا محلہ، اپر اڈا اور گوجرہ میں تصادم کے دوران مزید چار افراد جان سے جا چکے ہیں۔ مظاہرین کے مظفرآباد کے باہر جانے والے راستوں پر احتجاج کے باعث وادیِ نیلم اور جہلم ویلی جانے والی اہم شاہراہیں بند ہو گئیں۔
اس کے باعث انتخابی سامان اور عملے کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ شہر کے بیشتر علاقوں سے مظاہرین نے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے بینرز اور تصویریں اتار کر نذرآتش کر دی تھیں۔
ایل اے 27 میں پولنگ ملتوی، انتظامیہ اور پی پی پی کے آمنے سامنے
اتوار کو الیکشن کمیشن نے حلقہ ایل اے-27 (مظفرآباد 1) میں ”شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بند ہونے کے باعث“ پولنگ ملتوی کر دی ہے جس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے سردار جاوید ایوب، مسلم لیگ (ن) کی نورین عارف اور استحکام پاکستان پارٹی کے سردار تبارک علی مدمقابل ہیں۔
جمعرات کو 54 دن بعد انٹرنیٹ سروسز بحال کی گئی تھیں لیکن حالات بگڑنے پر 24 گھنٹے کے اندر ہی دوبارہ بند کر دیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منطقی قرار دیا ہے۔ پی پی پی الیکشن سیل کے انچارج سردار عبدالشکور نے موقف اختیار کیا۔
’پورے حلقے کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز کے باہر نہ بیک وقت درخت گر سکتے ہیں اور نہ ہی ہر جگہ لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے۔ اگر کچھ راستے بند تھے تو صرف وہاں کا فیصلہ کیا جاتا، پورے حلقے کے عوام کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا ناگزیر وجوہات کے بغیر نا قابلِ فہم ہے۔‘
ایل اے 28 میں انتخابی عملے کی عدم موجودگی پر شکایت
حلقہ ایل اے-28 (مظفرآباد 2) میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید بازل نقوی نے 71 پولنگ اسٹیشنز پر مقررہ وقت تک انتخابی عملہ نہ پہنچنے پر چیف الیکشن کمشنر کو باقاعدہ شکایت ارسال کی ہے۔ پی پی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ پولنگ کے اوقات میں مناسب توسیع کی جائے اور اس انتظامی غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
ڈویژن کے اہم انتخابی معرکے
سکیورٹی اور انتظامی مشکلات کے باوجود خطے کے تمام اضلاع میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایل اے-25 اور ایل اے-26 (نیلم): پیپلز پارٹی کے میاں عبد الوحید اور مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر دونوں حلقوں میں آمنے سامنے ہیں۔ ایل اے-25 سے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سردار تنویر الیاس جبکہ ایل اے-26 سے آئی پی پی کے ثقلین حیدر کاظمی بھی میدان میں ہیں۔
سکیورٹی اور انتظامی مشکلات کے باوجود خطے کے تمام اضلاع میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایل اے-28 (مظفرآباد 2): پی پی پی کے سید بازل علی نقوی، مسلم لیگ (ن) کے چوہدری شہزاد محمود اور آئی پی پی کی پروفیسر تقدیس گیلانی کے درمیان مقابلہ ہے۔
ایل اے-29 (مظفرآباد 3): مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی اور پی پی پی کے سردار مختار احمد خان مدمقابل ہیں۔
ایل اے-30 (مظفرآباد 4): مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی اور پی پی پی کے مبشر منیر اعوان میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔
ایل اے-31 (مظفرآباد 5): پی پی پی کے چوہدری لطیف اکبر، مسلم لیگ (ن) کے ثاقب مجید راجہ اور آئی پی پی کے راجہ مظہر قیوم مد مقابل ہیں۔
ایل اے-32 (چکار): مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور پی پی پی کے صاحبزادہ اشفاق ظفر آمنے سامنے ہیں۔
ایل اے-33 (لیپہ): مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد رشید اور پی پی پی کے دیوان علی خان چغتائی کے درمیان سخت معرکہ جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پونچھ ڈویژن کی نشستوں پر پولنگ 10 اگست کو شیڈول ہے، تاہم خطے کے کشیدہ حالات کے باعث وہاں بھی انتخابات کے بروقت انعقاد پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔