Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واشنگٹن میں عربی چیتے کے مسکن کا سنگِ بنیاد، ایک جوڑے کی منتقلی کا امکان

تقریب میں امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود بھی موجود تھیں (فوٹو: عرب نیوز)
رائل کمیشن فار العلا اور سمتھ سونینز نیشنل زو اینڈ کنزرویشن بائیولوجی انسٹی ٹیوٹ نے واشنگٹن میں عرب چیتے کے لیے مخصوص مسکن کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشترکہ اقدام جنگل میں 120 سے بھی کم باقی رہ جانے والے عرب چیتے کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق توقع ہے کہ سعودی عرب کے تحفظِ نسل پروگرام سے عرب چیتے کا ایک نر اور مادہ جوڑا امریکی چڑیا گھر منتقل کیا جائے گا۔ تاہم منتقلی سے قبل جانوروں کی فلاح و بہبود، جینیاتی مطابقت اور تیاری سے متعلق تکنیکی جائزوں اور ضروری منظوریوں کا مرحلہ مکمل کرنا ہوگا۔
اس تقریب میں امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود، سمتھ سونین کے سیکرٹری لونی جی بنچ سوم اور رائل کمیشن فار العلا کے سی ای او عبیر العقل نے شرکت کی۔
نیشنل زو اینڈ کنزرویشن بائیولوجی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برانڈی سمتھ نے ایک بیان میں کہا کہ ’معدومی ناگزیر نہیں۔ جب بہترین جانوروں کی نگہداشت، جدید سائنسی تحقیق، مسلسل سرمایہ کاری اور طویل مدتی شراکت داروں کو یکجا کیا جائے تو ہم جنگلی حیات کے لیے مستقبل بدل سکتے ہیں۔‘
 
سمتھ سونین کو العُلا سے پتھر پر تراشے گئے عربی چیتے کے ایک قدیم نقش کی نقل بھی پیش کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اصل نقش 800 قبلِ مسیح سے 400 عیسوی کے درمیان کا ہے۔ اس کی یہ نقل اب نمائش میں مستقل طور پر رکھی جائے گی۔

 واشنگٹن میں عربی چیتے کے ایک مخصوص مسکن کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

رائل کمیشن فار العلا، طائف میں تحفظ اور افزائشِ نسل کا ایک مرکز چلاتی ہے جو سعودی عرب کا پہلا مرکز ہے جسے یورپی ایسوسی ایشن آف زوز اینڈ ایکویریا نے منظوری دی ہے۔ کمیشن کی جانب سے یہ پروگرام سنبھالنے کے بعد وہاں رکھے جانے والے جانوروں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
 
رائل کمیشن فار العلا میں وائلڈ لائف اینڈ نیچرل ہیریٹیج کے نائب صدر نائف المالک نے کہا کہ ’کسی بڑے شکاری جانور کو دوبارہ جنگل میں آباد کرنا ایک پیچیدہ اور طویل مدتی سائنسی عمل ہے۔ اس کے لیے صرف چیتے کو اس کے قدرتی مسکن میں چھوڑ دینا کافی نہیں بلکہ ایسے ماحول کو بحال کرنا بھی ضروری ہے جہاں وہ طویل عرصے تک زندہ رہ سکے۔‘

کمیشن کے مطابق محفوظ شدہ علاقے اب العلا کی نصف سے زیادہ زمین پر محیط ہیں اور شرعان نیشنل پارک میں 74 ہزار 400 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ بحال کیا جا چکا ہے جہاں سبزے کا ڈھانچہ 2018 میں تقریباً چھ فیصد سے بڑھ کر 2026 کے وسط تک 50 فیصد ہو گیا ہے۔ العلا کے محفوظ علاقوں میں 1700 سے زیادہ جانور چھوڑے جا چکے ہیں جہاں ان کی افزائشِ نسل بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

 

شیئر: