انڈیا کی ریاست آسام میں سیلاب سے تقریباً 100 افراد ہلاک، ایک لاکھ 70 ہزار متاثر
انڈیا کی ریاست آسام میں سیلاب سے تقریباً 100 افراد ہلاک، ایک لاکھ 70 ہزار متاثر
جمعہ 7 اگست 2026 15:28
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی ترقیاتی سرگرمیاں ان آفات کی شدت، تعداد اور اثرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے شمال مشرقی علاقے میں آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جمعہ کے روز جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آسام میں سیلاب کے باعث اب تک کم از کم 97 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریاست آسام میں بدترین سیلاب کے بعد متعدد دیہات کیچڑ تلے دب گئے ہیں۔
ان میں سے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرکے عارضی پناہ گاہوں میں رہنا پڑ رہا ہے، کیونکہ طغیانی کا شکار دریاؤں نے گھروں اور زرعی زمینوں کو زیرِ آب کر دیا ہے۔
سیلابی پانی نے 14 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی اراضی کو ڈبو دیا ہے، جو رقبے کے لحاظ سے پیرس شہر سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا علاقہ بنتا ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع شیوا ساگر میں آدھے ڈوبے ہوئے مکانات، جڑ سے اکھڑے درخت اور کیچڑ میں دبی ہوئی گاڑیاں دیکھیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے جمعہ کو ایک ویڈیو جاری کی، جس میں وہ ایک 13 سالہ لڑکے کے والدین سے تعزیت کر رہے ہیں۔ یہ لڑکا سیلابی پانی میں اپنے پالتو کتے کو بچانے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
انڈیا کے وزیر صحت جے پی نڈا، جنہوں نے جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، نے کہا کہ تباہی کا پیمانہ ’اتنا وسیع ہے کہ معمول کی زندگی بحال ہونے میں وقت لگے گا۔‘
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک کے بعد ایک گاؤں زیرِ آب آ چکا ہے۔‘
مقامی رہائشیوں اور حکام نے ہمسایہ ریاست ناگالینڈ میں ہونے والی غیر قانونی کوئلے کی کان کنی کو بھی سیلاب کی شدت میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برصغیر کے بیشتر حصوں کی طرح آسام میں بھی جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون کے موسم میں سیلاب ایک عام بات ہے، کیونکہ انڈیا کا سب سے بڑا دریا برہم پتر اور اس کی متعدد معاون ندیاں طغیانی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی ترقیاتی سرگرمیاں ان آفات کی شدت، تعداد اور اثرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
مقامی رہائشیوں اور حکام نے ہمسایہ ریاست ناگالینڈ میں ہونے والی غیر قانونی کوئلے کی کان کنی کو بھی سیلاب کی شدت میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے باعث وہ علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں جہاں ماضی میں کبھی سیلاب نہیں آیا تھا۔
وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو نئی دہلی میں موجود مرکزی حکومت کے سامنے اٹھائیں گے۔
ماحولیاتی تنظیم کلائمیٹ ٹرینڈز کے مطابق، آسام میں سیلاب کی بڑھتی ہوئی شدت ’عالمی حدت، دریاؤں کے بدلتے ہوئے قدرتی نظام اور انسانی آبادی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باہمی اثرات کا نتیجہ ہے، جس کے باعث سیلاب پہلے سے زیادہ بار، زیادہ پیچیدہ اور زیادہ مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔‘