سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ کی مملکت پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
بیان میں کہا گیا بات چیت اور سفارتکاری ہی پائیدار حل کے لیے واحد راستہ ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ نے مملکت کو نشانہ بنائے جانے والے تمام حملوں خصوصا حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔ مملکت کی خود مختاری اور دفاع کے حق کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا۔
ایس پی اے کے مطابق چاروں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔
ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں چاروں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بات چیت اور سفارتکاری ہی پائیدار حل کے لیے واحد راستہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ مملکت کے اپنے دفاع،عوام اور سرزمین کے تحفظ کے حق کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق قرار دیا۔
بیان میں فریڈم آف نیویگیشن اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

یمن کے حوالے سے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور صدارتی لیڈر شپ کونسل کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا۔ یمن میں امن، استحکام اور ترقی کے حصول کے لیے ایک جامع سیاسی عمل اور تمام فریقوں کے درمیان بات چیت کے حوالے سے کوششوں کی تائید کی۔
انہوں نے مشرق وسطی میں امن و استحکام کے لیے مسئلہ فلسطین کو اہم قرار دیا۔ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور چار جون 1967 کی سرحدوں پر ایک ایسی آزاد، خود مختار اور قابل عمل ریاست کے قیام کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

سوڈان کے معاملے پر وزرائے خارجہ نے سوڈان کی خود مختاری، اتحاد، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا۔ غیر قانونی ہتھیاروںِ، کرائے کے فوجیوں اورغیر ملکی جنگجوؤں کے داخلے کو روکنے پر زور دیا۔
انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر قریبی ہم آہنگی اور مشاورت برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
