Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اللیث میں سیپیوں کے ڈھیر اور مچھلی کے جال، بحیرۂ احمر کے ساحلی ورثے کے امین

اللیث گورنریٹ کے جنوب میں السرین بندرگاہ کے قریب الشواق مرکز کے ساحل پر بکھرے ہوئے سیپیوں کے ڈھیر اور قدیم پتھروں سے بنے مچھلی پکڑنے کے جال نما ڈھانچے بحیرۂ احمر سے انسان کے قدیم تعلق کے گواہ ہیں۔ 
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ آثار صدیوں سے جاری ماہی گیری، سیپیاں جمع کرنے اور ساحلی وسائل سے استفادے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ہیریٹیج کمیشن کے انڈر واٹر ہیریٹیج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماجد العنزی نے بتایا کہ قدیم تہذیبوں کے درمیان مملکت کے جغرافیائی محلِ وقوع نے اس کے ساحلوں کو تاریخی اہمیت دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانوں نے دس لاکھ سال سے بھی پہلے جزیرہ نمائے عرب میں سکونت اختیار کی تھی اور اپنے پیچھے سیپیوں کے ڈھیر، مچھلی پکڑنے کے جال اور اور غرقاب جہازوں کے آثار چھوڑ گئے۔
ڈاکٹر ماجد العنزی نے مملکت کے ساحلوں کے ساتھ زیرِ آب ثقافتی ورثے کی سائٹس کے سروے میں ہیریٹیج کمیشن کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا جن میں سب سے نمایاں املج کے قریب ڈوبے ہوئے جہاز کی باقیات کی کھدائی ہے۔
الشواق میں موجود سیپیوں کے ڈھیر اور مچھلی پکڑنے کے قدیم جال نما ڈھانچوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع السرین بندرگاہ کے قریب ہیں جو بحری تجارت اور حجاج کے قافلوں کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔

 

شیئر: