ایران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ سے جذباتی خطاب
ایران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ سے جذباتی خطاب
بدھ 23 ستمبر 2026 19:03
صدر پزشکیان نے ایرانی سکول پر حملے میں جان سے جانے والی 150 سے زائد بچیوں کی تصاویر بھی ہاتھ میں بلند کیں (فوٹو: اے پی)
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ عالمی سطح پر کھُل کر اپنے مؤقف کا اظہار کیا اور دوٹوک انداز میں کہا کہ تہران کبھی’گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔‘
انہوں نے اپنے خطاب میں جنگ کے آغاز میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے پر امریکہ پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا۔
ایرانی صدر نے مقتول رہنما کی تصویر ہاتھ میں بلند کی اور کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی۔
اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کو ’صفحۂ ہستی سے مٹا دینے‘ کے امکان پر غور کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے مذاکرات کاروں کے درمیان دوبارہ مذاکراتی عمل شروع ہونے کی تعریف بھی کی۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے سخت اور دوٹوک خطاب میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری تعطل کا شکار مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پابندیوں، بڑھتے ہوئے دباؤ اور مزید دھمکیوں کے سامنے ایرانی عوام کی مزاحمت مزید مضبوط ہی ہو گی۔ ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور نہ ہی گھٹنے ٹیکیں گے۔‘
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، جس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے وقفے وقفے سے ناکہ بندی کی جاتی رہی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کچھ لوگ اس آبی گزرگاہ تک آزادانہ رسائی حاصل کریں اور اس کے ذریعے اپنے مفادات کو تقویت دیں، جبکہ دوسری جانب اسی آبی گزرگاہ کو ہمارے خلاف جارحیت مسلط کرنے کے لیے استعمال کریں۔‘
ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث اب یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول کھو سکتی ہے۔
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا (فوٹو: اے ایف پی)
صدر پزشکیان کے مین ہٹن کے مرکز میں ہونے والی اقوام متحدہ کی اس اہم سفارتی تقریب میں شرکت کے امکانات بھی غیر یقینی تھے، کیونکہ یہ واضح نہیں تھا کہ امریکا انہیں ویزا جاری کرے گا یا نہیں۔
امریکا نے بالآخر ایرانی صدر کو ویزا جاری کر دیا، تاہم اِن کے وفد کے کئی ارکان کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
’ہم دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں‘
ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’دہشت گردی کا نشانہ‘ بنے ہیں۔ انہوں نے مرحوم علی خامنہ ای اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی سکول پر حملے میں جان سے جانے والی 150 سے زائد بچیوں کی بڑی تصاویر بھی ہاتھ میں بلند کیں۔
صدر پزشکیان نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ ہمارے بے گناہ عوام بزدلانہ حملوں اور جارحیت کا نشانہ بنے، جو ہمارے ملک پر مسلط کی گئی۔ اور ہم نے پوری قوت کے ساتھ اپنا دفاع کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا۔‘