Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہیملٹ ٹیسٹ‘ کون پاس کر سکتا ہے؟ عامر خاکوانی کا کالم

ہیملٹ ٹیسٹ میں شیکسپیئر کے شہرۂ آفاق ڈرامے ہیملٹ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (فوٹو: ہسٹری بائیوگرافی)
آج کل یہ حال ہو گیا ہے کہ کہیں سے کوئی نئی سوچ، نئی بات سننے، پڑھنے کو نہیں ملتی۔ ہر جگہ پامال، گھسی پٹی باتیں سنتے، پڑھتے ہیں یا سوشل میڈیا پر مخصوص چخ چخ۔ اگلے روز عالمی اخبارات کے مطالعے میں ایک نئی اصطلاح پڑھنے کو ملی، مزہ بھی آیا اور کچھ ہٹ کر غور کرنے کا موقع بھی ملا۔
یہ نئی ترکیب ہیملٹ ٹیسٹ کی ہے جسے ایک امریکی دانشور نے پیش کیا۔ یہ شیکسپیئر کے شہرۂ آفاق ڈرامے ’ہیملٹ‘ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ بہت مشہور ڈرامہ ہے، دنیا بھر میں سٹیج پر پیش کیا گیا۔ کئی فلمیں بھی اس سے متاثر ہو کر بنائی گئیں، بالی وڈ کی مشہور فلم ’حیدر‘ بھی اسی سے اخذ کردہ ہے جس میں شاہد کپور اور تبو نے اچھا کام کیا ہے۔
مصنف نے یہ سوال اٹھایا کہ فرض کیجیے شیکسپیئر 10 برس کی عمر میں چیچک سے مر جاتا، کیا اس دور کا کوئی دوسرا ڈرامہ نگار ’ہیملٹ‘ لکھ سکتا تھا؟ اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ اس لیے کہ ’ہیملٹ‘ کسی نوآموز کا پہلا ڈرامہ نہیں بلکہ شیکشپیئر کے پختہ تخلیقی دور کا شاہکار تھا جب وہ ’رومیو اینڈ جولیئٹ‘ اور ’جولیس سیزر‘ جیسے شاہکار دے چکا تھا۔ شیکسپیئر کے زمانے میں بین جانسن، کرسٹوفر مارلو اور جان ویبسٹر جیسے مانے ہوئے نام تھے، مگر ماہرین کے مطابق ان کا بہترین کام بھی ’ہیملٹ‘ کے قریب نہیں پہنچتا۔
اسی سے ہیملٹ ٹیسٹ کی اصطلاح بنائی گئی کہ کون سی شخصیت ایسی ہے جس کا کام اتنا منفرد تھا کہ صرف وہی اسے کر سکتی تھی، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی اور ویسا نہیں کر پایا۔ دوسرے لفظوں میں یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی شخصیت کا تاریخی یا تخلیقی کردار ناقابل متبادل تھا یا سازگار حالات میں کوئی دوسرا شخص بھی تقریباً وہی کام کرسکتا تھا۔
مجھے ہیملٹ ٹیسٹ والی اصطلاح دلچسپ لگی۔ ایک لمحے کے لیے اس شخصیت کو منظر سے ہٹا کر دیکھیں کہ کیا اس کے بغیر بھی وہ سب کچھ ہو پاتا جو اس نے کیا؟

سیاست دان اور ہیملٹ ٹیسٹ

اسے کھیلوں پر لاگو کریں جبکہ موسیقی، ادب اور شاعری پر بھی آزمایا جا سکتا ہے اور ظاہر ہے سیاست تو ہے ہی۔ عالمی لیڈروں میں ڈیگال، چرچل، نیلسن منڈیلا وغیرہ کے کردار پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں ہر لیڈر کے اپنے فینز ہیں۔ پاکستان میں بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، عمران خان، ہر ایک کے مداح ہیں۔ کچھ تو ایسے بھی ہوں گے جو شاید مولانا فضل الرحمن ہی کو ہیملٹ ٹیسٹ کا فاتح بنا دیں۔
میرے حساب سے تو قائداعظم ہی ایسی شخصیت ہیں جو اس ٹیسٹ کو امتیازی نمبروں سے پاس کر پائیں گے۔ اس لیے کہ اگر وہ خدانخواستہا1945 میں انتقال کر جاتے تو شاید پاکستان وجود میں نہ آتا۔

ایلون مسک نے انٹرنیٹ کے انقلاب کو دیکھتے ہوئے نوکری چھوڑ کر کمپنی بنائی (فوٹو: سکرین گریب)

متحدہ ہندوستان تو آزاد ہو جاتا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکمرانوں نے برصغیر سے نکلنا ہی تھا، البتہ شاید پاکستان نہ بن پاتا۔ مسلم لیگ کی قیادت کانگریس سے کچھ رعایات لے کر متحدہ ہندوستان پر راضی ہو جاتی۔
یہ قائد ہی تھے جو کانگریسی قیادت کے کیبنٹ مشن پلان سے انحراف کے بعد ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور پھر ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ پاکستان بن کر ہی رہا۔
گاندھی جی بھی بڑے لیڈر تھے، آزادی ہند میں ان کا اہم کنٹری بیوشن ہے لیکن اگر وہ 47 سے دو سال پہلے آنجہانی ہو جاتے تو ہندوستان پھر بھی آزاد ہو جاتا۔ مولانا آزاد تو خیر کوئی فرق ہی نہ ڈال سکے، ان کے جلد رخصت ہونے سے بس یہ ہوتا کہ وہ اپنی تھکی ہاری کتاب ’انڈیا ونز فریڈم‘ نہ لکھ پاتے۔ جے یو آئی ہند والے تو اس سے بھی گئے گزرے تھے۔ البتہ پنڈت نہرو کے پارٹیشن کے بعد کئی سال حکمران رہنے سے بھارت کو یہ فائدہ ہوا کہ اس کے ادارے مستحکم ہوئے، ریاستیں اور راجواڑے ختم ہوگئے۔
کھیلوں میں ہیملٹ ٹیسٹ
اس ٹیسٹ کو ذرا نچلے پیمانے پر لے آئیں۔ کھیلوں پر لاگو کریں ۔ باکسنگ میں جو محمد علی نے کیا، وہ کوئی اور نہیں کر پایا۔ ہیملٹ ٹیسٹ کا موزوں ترین امیدوار علی ہے۔
فٹ بال میں پیلے کا نام فوراً ذہن میں آتا ہے۔ میں تو میراڈونا کا بھی نام لوں گا۔ وہ نہ ہوتا تو ارجنٹائن شاید 1986 کا عالمی کپ نہ جیت پاتا۔ میراڈونا نے ارجنٹائن کے بعد آنے والے فٹ بالروں کی کئی نسلوں کے تخیل کو متاثر کیا۔ ویسے تو میسی، رونالڈو وغیرہ پر بھی بات ہوسکتی ہے۔
پاکستانی کرکٹ میں بھی کئی عظیم کھلاڑی گزرے ہیں، مگر ہیملٹ ٹیسٹ کچھ مختلف سا معاملہ ہے۔ کاردار، حنیف محمد، فضل محمود وغیرہ سے ماجد، ظہیر، عمران خان، جاوید میانداد اور پھر بڑے کھلاڑیوں کی ایک لمبی قطار ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ ان سے قدرے کم درجے کا بولر سرفراز نواز ہیملٹ ٹیسٹ پاس کر جائے گا۔ سرفراز نواز نہ ہوتا تو شاید ریورس سوئنگ اتنی جلد ایک باقاعدہ، مہلک فن نہ بن پاتی۔ سرفراز ریورس سوئنگ کا بانی تھا۔ اسے آرٹ کا درجہ بھی اسی نے دیا۔
اسی طرح کا کریڈٹ ثقلین مشتاق کا بھی ہے۔ اس نے دوسرا ایجاد کرکے آف سپن کو ایک نئی جارحانہ جہت دی اور مرلی دھرن سمیت بعد کے آف سپنروں کی پوری نسل کا انداز بدل دیا۔ لیگ سپنر بہت سے تھے، مگر عبدالقادر نے ون ڈے کرکٹ کے عروج میں تقریباً دم توڑتے لیگ سپن کے فن کو نئی زندگی دی۔ بعد میں شین وارن نے اسے کمال پر پہنچایا۔
عمران خان بطور کھلاڑی پتا نہیں اس میں آتے ہیں یا نہیں، بطور کپتان وہ ضرور کوالیفائی کرتے ہیں۔ وہ اگر نہ ہوتے تو پاکستان غالباً 92 کا ورلڈ کپ ہار جاتا۔ عمران کا ایک اور بڑا کردار یہ ہے کہ وہ نہ ہوتے تو شاید وقار یونس، عاقب جاوید، انضمام الحق اور مشتاق احمد جیسے کھلاڑی اتنی جلد قومی ٹیم تک نہ پہنچتے یا ان کے کیریئر مختلف رخ اختیار کرتے۔ وسیم اکرم میانداد کی وجہ سے قومی ٹیم میں آئے، مگر وسیم کو سلطان آف سوئنگ عمران خان نے بنایا۔
ادیب اس ٹیسٹ میں کہاں کھڑے ہیں؟
عالمی سطح پر میری ناچیز رائے میں دستوئیفسکی اور ٹالسٹائی بھی اس ٹیسٹ کے کامیاب امیدوار ہیں۔ اگر ٹالسٹائی لڑکپن یا نوجوانی ہی میں دنیا سے رخصت ہوجاتے تو میرا نہیں خیال کہ ’وار اینڈ پیس‘ جیسا شاہکار لکھا جاتا۔ اس لیے کہ ان سے پہلے، ان کے زمانے میں اور ان کے جانے کے سو سال بعد بھی کوئی اس کے قریب تک نہیں پھٹک پایا۔ ممکن ہے حاجی مراد کوئی اور لکھ لیتا، ٹالسٹائی کی بعض کہانیوں جیسی کہانیاں بھی شاید لکھی جاتیں، مگر ’وار اینڈ پیس‘ نہیں۔
دستوئیفسکی کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ برادرز کرامازوف لکھنے کا شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ بھی نہ لکھا جاتا۔ دستوئیفسکی نے جس انداز میں کردار نگاری کی، انسانی شخصیت کے تضادات اور اندرونی جوار بھاٹے کو بیان کیا، یہ کسی اور کے بس کی بات ہی نہیں۔
جیمز جوائس کا ’یولیسز‘ بھی ان کے سوا کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ یہ بات کہنے کے لیے میں جناب انور سن رائے کا شکرگزار ہوں کہ ان کے اردو ترجمے نے مجھے یہ رائے دینے کے قابل کیا۔ جیمز جوائس ہیملٹ ٹیسٹ پاس کرتے ہیں۔
اردو ادب میں سچی بات یہ ہے کہ مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ کسے پاس کیا جائے؟ منٹو، کرشن چندر، عصمت، بیدی، غلام عباس، قرۃ العین حیدر وغیرہ اہم اور بڑے ادیب ہیں، مگر یہ فیصلہ آسان نہیں کہ ان میں سے کون اس انتہائی سخت معیار پر پورا اترتا ہے؟ بہرحال میری رائے اس حوالے سے خام اور ناپختہ ہوگی، بہتر ہوگا کہ نقاد حضرات اس پر بات کریں۔
البتہ ایک قدرے غیر معروف لکھاری سید رفیق حسین کے بارے میں میری خوش گمانی ہے کہ انہوں نے جو کام کیا، وہ منفرد نوعیت کا تھا۔ جانوروں پر اس طرح سے کہانیاں نہیں لکھی گئی تھیں۔ شاید سید رفیق حسین نہ ہوتے تو قاضی عبدالستار اور ابوالفضل صدیقی ویسے تجربے نہ کرتے، ممکن ہے سید اشرف کا ’نمبردار کا نیلا‘ بھی نہ لکھا جاتا۔ ویسے ابن صفی بھی اگر نہ ہوتے تو جاسوسی ناول نگاری کا ایک بڑا باب ادھورا رہ جاتا۔

’دستوئیفسکی اور ٹالسٹائی ہیملٹ ٹیسٹ کے کامیاب امیدوار ہیں‘ (فوٹو: رشین کلچر ہیریٹیج پوسٹ)

شاعری میں بھی یہ جائزہ لینا چاہیے، مزاح لکھنے والوں، خاکہ نگاروں اور نقادوں کا بھی تجزیہ کرنا چاہیے۔ ویسے تو سفرنامہ نگار کے طور پر کسی کو اچھا لگے یا برا، تارڑ صاحب کو بھی اس فہرست میں ڈالنا پڑے گا۔
’سب رنگ‘ کو پاس کرنا بنتا ہے
چھوٹا منہ، بڑی بات والا معاملہ شاید ہوجائے مگر میری ذاتی رائے میں ’سب رنگ‘ اور شکیل عادل زادہ بھی ہیملٹ ٹیسٹ پاس کرتے ہیں۔ جو کام ’سب رنگ‘ نے کیا، وہ کوئی اور نہیں کر سکا۔ اگر شکیل عادل زادہ نہ ہوتے تو بہت کچھ ادھورا رہ جاتا۔
’سب رنگ‘ نہ آتا تو عالمی ادب کا بہت سا غیرمعمولی مواد اس انتخاب، ترجمے، تہذیب اور دل کش پیش کش کے ساتھ اردو قاری تک نہ پہنچتا۔ بازی گر جیسا شاہکار بھی نہ لکھا جاتا۔
ڈائجسٹوں کے عروج کے زمانے میں بھی کوئی ’سب رنگ‘ کو نہ چھو پایا۔ حتیٰ کہ جون ایلیا جیسا نابغہ اور زاہدہ حنا جیسی تخلیقی خاتون مل کر بھی عالمی ڈائجسٹ کو ایک خاص سطح سے اوپر نہ اٹھا سکے۔ جاسوسی، سسپنس وغیرہ کا تو خیر ذکر ہی نہیں بنتا۔
فنون لطیفہ، موسیقی، گائیکی
اس حوالے سے بھی ماہرین کو اپنی رائے دینی چاہیے۔ مصوری، موسیقی اور گائیکی، سب کو دیکھنا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان میں کئی عظیم گلوکار گزرے ہیں، ان کو جانچنا چاہیے۔ سہگل، رفیع، مکیش، کشور کمار، لتا، آشا سے لے کر پاکستانی عظیم فنکاروں مادام نورجہاں، روشن آرا بیگم، مہدی حسن، غلام علی اور اقبال بانو وغیرہ کو دیکھنا چاہیے۔ احمد رشدی اور دیگر کو بھی۔
میری البتہ طالب علمانہ سی رائے ہے کہ نصرت فتح علی خان اس حوالے سے کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ فیوژن کا جو تجربہ انہوں نے کیا، ان کے ہم عصر شاید ویسا نہ کر پاتے۔ استاد نصرت اپنی مثال آپ تھے۔ کلاسیکی فنکاروں میں کئی بڑے نام ہیں، میں ان پر رائے دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ماہرین کو بات کرنی چاہیے۔

سب رنگ ڈائجسٹ نہ آتا تو عالمی ادب کا بہت سا غیرمعمولی مواد اردو قاری تک نہ پہنچتا (فوٹو: فلکر)

بل گیٹس، سٹیو جابز، بیزوس، زکربرگ اور ایلون مسک
یہ پانچ نام کئی اعتبار سے آج کی نسلوں کے محسن ہیں کہ ان کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بہت تبدیلی آئی، آسانیاں ملیں۔
ایمیزون کے مالک بیزوس نے طے کیا کہ آرڈر دینا آسان ہو اور چیز بہت جلد پہنچے، چاہے ابتدا میں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ آج کسی چھوٹی ویب سائٹ سے چیز منگواتے ہوئے بھی ہم یہی رفتار اور سہولت مانگتے ہیں، یہ توقع بیزوس نے پیدا کی۔ سٹیو جابز کا کمال آئی فون کو سادہ اور استعمال میں آسان رکھنا تھا۔ وہ ان اندرونی حصوں پر بھی جنون کی حد تک توجہ دیتا تھا جو کسی کو نظر نہیں آتے۔
زکربرگ نے صارف کی اصل شناخت لازم رکھی، نیوز فیڈ بنائی اور لائیک کا بٹن دیا۔ اسی بٹن نے انتہائی رائے کے اظہار کی حوصلہ افزائی کی۔ زکربرگ کا ایک اور فیصلہ قابل تعریف ہے کہ صرف 22 سال کی عمر میں اسے فیس بک کے بدلے ایک ارب ڈالر کی پیش کش ہوئی، مگر اس نے انکار کر دیا۔ بہت کم نوجوان ایسا کر پائیں گے۔
بل گیٹس ابتدا میں اپنے ساتھی پال ایلن کو روکتا رہا تھا کہ ابھی ٹیکنالوجی پرسنل کمپیوٹر کے لیے کافی نہیں۔ پھر اس نے ایسی رفتار پکڑی کہ مائیکروسافٹ سب پر بازی لے گیا۔
جیف بیزوس کو پتا چلا کہ ایک سال میں انٹرنیٹ کا استعمال دو ہزار تین سو فی صد بڑھ چکا ہے تو اس نے اپنی ملازمت چھوڑ کر ایمیزون کمپنی بنا لی۔ ایلون مسک 1995 سٹینفورڈ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخل ہوا مگر انٹرنیٹ کے ابھرتے ہوئے انقلاب کو دیکھ کر صرف دو دن بعد یونیورسٹی چھوڑ دی اور اپنے بھائی کے ساتھ پہلی کمپنی بنا لی۔ پھر جو ہوا، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔
مارک زکربرگ کو اپنے درست وقت کی خبر ہی نہ تھی، مگر وقت نے اس کا ساتھ دیا۔ اس سے کچھ پہلے کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ناکام ہو چکے تھے۔ فیس بک کے آغاز کے وقت امریکہ میں تیز رفتار انٹرنیٹ عام اور ڈیجیٹل کیمرے سستے ہو رہے تھے، سو نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل کیمرے سے تصاویر لے کر پوسٹ کرنا آسان ہوگیا۔ زکربرگ اگر چند سال پہلے فیس بک بناتا تو وہ ناکام ہو جاتی، شاید آج ہم اس کا نام بھی نہ جانتے۔

قائداعظم ہیملٹ ٹیسٹ کو امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کرتے دکھائی دیتے ہیں (فوٹو: پاک ہسٹری)

ویسے جس مصنف جیراڈ ڈائمنڈ کی یہ ہیملٹ ٹیسٹ والی تھیوری ہے، اس کا معیار اتنا سخت ہے کہ وہ ان پانچوں کو بھی فیل کر دیتا ہے۔ اس کے خیال میں ان کے بغیر بھی آن لائن خریداری، ذاتی کمپیوٹر، سمارٹ فون، سوشل میڈیا اور بجلی سے چلنے والی گاڑیاں آ جاتیں، البتہ ان صنعتوں کی شکل شاید ویسی نہ ہوتی۔
ہیملٹ ٹیسٹ کی اصل خوبی یہی ہے کہ یہ شہرت، دولت اور مقبولیت کے بجائے ایک مختلف سوال پوچھتا ہے: اگر اس شخص کو تاریخ سے نکال دیا جائے تو کیا اس کا کام پھر بھی کسی اور کے ہاتھوں تقریباً اسی طرح ہو جاتا؟ اس معیار پر بہت سے عظیم لوگ ناکام اور بعض نسبتاً کم معروف لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
میری فہرست سے اختلاف کی پوری گنجائش ہے۔ آپ بھی اپنے پسندیدہ سیاست دان، کھلاڑی، ادیب، شاعر، گلوکار یا موجد کو ایک لمحے کے لیے تاریخ سے نکال کر دیکھیے۔ ممکن ہے اس تجربے کے بعد آپ کی بنائی ہوئی عظیم لوگوں کی فہرست خاصی بدل جائے۔

شیئر: