Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

براڈ پیک سانحہ: نامور کوہ پیما نرمل پُرجا سمیت 10 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق

 پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پُرجا اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ 
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نرمل پُرجا کی مہماتی کمپنی ’ایلیٹ ایکسپیڈیشنز‘ نے سنیچر کے روز جاری بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دیگر ارکان بھی حادثے میں جانبر نہ ہو سکے۔
کمپنی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’انتہائی دکھ اور گہرے رنج کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد نرمل پُرجا جان کی بازی ہار گئے۔ ہمیں اس بات کی بھی تصدیق موصول ہوئی ہے کہ مہم کے دیگر ارکان بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچ سکے۔‘
گلگت بلتستان کی  حکومت کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے جمعے کی شب جاری بیان میں بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک تین کوہ پیماؤں کی لاشیں نکال کر شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ ان میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی سارہ میلوری گیس، عمان کی کوہ پیما نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور نیپال کے پور بہادر گرونگ شامل ہیں۔
بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ حادثے میں 10 رکنی بین الاقوامی مہم کا کوئی بھی رکن زندہ نہیں بچا۔ ہلاک ہونے والوں میں نرمل پرُجا، پور بہادر گرونگ، کیلی پیمبا شیرپا، نیما شیرپا، گیالو شیرپا اور ناوانگ تھندو شیرپا کا تعلق نیپال سے تھا، جبکہ پاکستان کے سہیل سخی، چین کے وانگ ژونگ، عمان کی نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی اور امریکہ کی سارہ میلوری گیس بھی اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئے۔
نیپال کے وزیراعظم بلندر شاہ نے نرمل پرجا اور دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے نے پوری قوم کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ ان کوہ پیماؤں کا جسمانی سفر ختم ہو گیا، تاہم ان کی جرات، عزم اور خدمات ہمیشہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔

نرمل پرجا  نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

’کوہ پیمائی سیزن کا مہلک ترین سانحہ‘
یہ حادثہ 30 جولائی کو تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان برفانی تودہ گرنے کے باعث پیش آیا، جسے حالیہ برسوں میں پاکستان کے کوہ پیمائی سیزن کا مہلک ترین سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان پولیس کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث ایک روز کے تعطل کے بعد سنیچر کو دوسرے روز بھی سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ انتہائی بلندی پر کام کرنے والے پورٹرز، مقامی ریسکیو اہلکار اور پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقے میں مسلسل تلاش میں مصروف رہے جبکہ ریسکیو ٹیموں نے بیس کیمپ میں رات گزاری۔
گلگت بلتستان حکومت کا کہنا ہے کہ ریسکیو کارروائیاں انتہائی دشوار گزار جغرافیے، شدید سردی اور بلند پہاڑی علاقوں کے نامساعد موسمی حالات میں پاک فوج، مقامی ہائی الٹیٹیوڈ کوہ پیماؤں اور امدادی ٹیموں کے باہمی تعاون سے انجام دی گئیں۔
حکام کے مطابق برفانی تودہ جمعرات کو اس وقت گرا جب 10 رکنی بین الاقوامی مہم براڈ پیک کی چوٹی سر کرنے کے لیے تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان پیش قدمی کر رہی تھی۔  ٹیم کا آخری رابطہ جمعرات کی صبح ہوا، جس کے چند گھنٹے بعد شدید برفانی تودہ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
پاکستان الپائن کلب سے وابستہ معروف کوہ پیما نائلہ کیانی نے فرانسیسی اخبار ’لوموند‘ کو بتایا کہ مہم کے ٹریکنگ آلات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تودے نے کوہ پیماؤں کو پہاڑ کی ڈھلوان سے سیکڑوں میٹر نیچے دھکیل دیا۔
کوہ پیما فدا علی 2023 سے نرمل پرجا کے ساتھ مختلف مہمات میں شریک رہے، انہوں نے بتایا کہ اس سیزن کا بنیادی ہدف براڈ پیک سر کرنا تھا، تاہم ٹیم نے اس سے قبل سخت موسمی حالات میں جی ٹو (گاشر برم ٹو) کی مہم بھی مکمل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ براڈ پیک کی مہم کے ابتدائی حصے میں ٹیم کے ساتھ تھے، تاہم ایک روسی خاتون کوہ پیما کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں واپس لانے کے لیے لوٹ آئے، یوں وہ حادثے سے محفوظ رہے۔
فدا علی کے بقول،’میں نرمل پرجا کے ساتھ آگے جانا چاہتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ میں ٹیم کا حصہ تھا، مگر واپس آ جانے کی وجہ سے میری جان بچ گئی۔‘

اس حادثے میں معروف اومانی کوہ پیما  نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی بھی جان کی بازی ہار گئیں (فوٹو بشکریہ ٹائمز آف اومان)

کوہ پیمائی کی دنیا کا درخشاں نام
43 سالہ نرمل پرجا برطانوی فوج کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز سپیشل بوٹ سروس میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پیشہ ورانہ کوہ پیمائی اور مہم جوئی کو اپنا میدان بنایا اور مختصر عرصے میں کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔
انہوں نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے بعد میں بھی کوہ پیمائی کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا رہا۔
حادثے سے چند روز قبل نرمل پرجا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ وہ بغیر اضافی آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو ’دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے انسان‘ بننے کے قریب ہیں۔ براڈ پیک روانگی سے قبل انہوں نے لکھا تھا کہ ’براڈ پیک، میں تم سے صرف محفوظ واپسی کی دعا مانگتا ہوں۔‘
براڈ پیک کی بلندی 8,047 میٹرہے اور قراقرم کے سلسلۂ کوہ میں کے ٹو کے قریب واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اسے آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں تکنیکی اعتبار سے مشکل ترین اور خطرناک مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس چوٹی کو پہلی مرتبہ 1957 میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے سر کیا تھا۔

شیئر: