ریچھوں کے بڑھتے ہوئے حملے یورپ کے جنوب مشرقئ ملک رومانیہ کے حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
حکام ایک طرف شہریوں اور سیاحوں کو ریچھوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف روس کے بعد یورپ میں موجود بھورے ریچھوں کی سب سے بڑی آبادی کو بھی سنبھال رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق رومانیہ کی وزارتِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ’ملک میں قریباً 10 ہزار سے 13 ہزار بھورے ریچھ موجود ہیں۔‘
پہاڑی علاقوں میں انسانوں اور ریچھوں کے آمنے سامنے آنے کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ شہری آبادی کے پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ریچھوں کے قدرتی مسکن سُکڑتے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ ‘اب خوراک کی تلاش میں ریچھ قصبوں اور شہروں میں داخل ہونے کے عادی ہو چکے ہیں۔‘
ان میں سے بعض واقعات کے دوران کئی انسانوں کی جان جا چکی ہے۔ وزارتِ ماحولیات کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں کے دوران رومانیہ میں ریچھوں کے حملوں میں قریباً 30 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔