وائٹ ہاؤس کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بددلی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کے بہت سے لوگوں کو حیران کرتے ہوئے ایک متبادل تجویز پیش کی ہے کہ اسرائیل کی بجائے شام کو ایران کی حمایت یافتہ اس مسلح تنظیم کے خلاف لڑنے دیا جائے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیڑھ سال قبل شام کے آمر صدر بشارالاسد کا تختہ الٹ کر برسرِاقتدار آنے والی جنگ جو اور اسلام پسند حکومت اسرائیلی فوج کے مقابلے میں حزب اللہ کا بہتر طریقے سے خاتمہ کر سکتی ہے۔
شامی صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ کے بیانات کو غلط سمجھا گیا ہے۔ تاہم ٹرمپ اپنے اس خیال پر قائم ہیں۔
مزید پڑھیں
-
اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیےNode ID: 905783
-
سکیورٹی معاہدے کے ایک دن بعد اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہNode ID: 905801
یہ اگرچہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس اس تجویز پر عمل کرنے میں کس حد سنجیدہ ہے، لیکن شام کی ممکنہ مداخلت کے امکان نے لبنان کے علاوہ اسرائیل میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جو احمد الشرع کی اسلام پسند حکومت کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوبی شام کے ایک حصے پر قبضہ بھی کر چکا ہے۔
شام اب اسرائیل اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ترکی احمد الشرع کی حکومت کا بڑا حمایتی ہے اور اسرائیل اور ترکی دونوں ہی شام میں ایک دوسرے کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز اسرائیلی سکیورٹی حکام نے اس معاملے پر ایک اجلاس بھی کیا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام حزب اللہ کے خلاف ’بہتر کام‘ کرے گا
رواں ماہ کے اوائل میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ نے شکایت کی کہ اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف جنگ طول پکڑ رہی ہے اور ’بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔‘

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اب تک چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے شامل ہیں، یہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایران کی وسیع جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں حزب اللہ کو نشانہ بناتا ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے اسرائیل کو مشورہ دیا کہ حزب اللہ سے نمٹنے کے لیے شام کو موقع دیں۔ سچ کہوں تو میرا خیال ہے کہ وہ اس سے بہتر کام کریں گے۔‘
شام کی لبنان میں مداخلت کے منصوبوں کی تردید
شامی حکام نے فوری طور پر وضاحتیں دینا شروع کر دی ہیں۔ 13 جون کو دمشق میں ایک خطاب میں احمد الشرع نے کہا کہ ’کچھ لوگ یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ شام لبنان میں مداخلت کرے گا۔ یہ درست نہیں۔ ہم جنگ کے مستقل خاتمے، اداروں کی مضبوطی، معاشی روابط اور لبنان میں حالات کو پرسکون بنانے کی بات کر رہے ہیں۔‘
شامی قیادت کا مؤقف: حزب اللہ سے حساب برابر نہیں کرنا چاہتے
شام کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ اور ایران نے بشار الاسد کا ساتھ دیا تھا، جبکہ الشرع ایک باغی گروہ کے رہنما تھے جو انہیں ہٹانا چاہتے تھے۔
لیکن دمشق کی نئی قیادت نے دسمبر 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کہا ہے کہ وہ ملک کی تعمیر نو پر توجہ دینا چاہتی ہے، کسی سے بدلہ لینے کے درپے نہیں، اور کسی بھی علاقائی تنازع سے دور رہنا چاہتی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ نے جب ایران کے خلاف جنگ شروع کی جس نے خطے میں ایک وسیع تنازع کو جنم دیا تو اس وقت بھی شام نے خود کو اس سے الگ رکھا۔
جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں شامی فوج نے لبنان کی سرحد پر نفری بڑھائی، جس کا مقصد حکام کے مطابق اسلحے کی سمگلنگ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ مارچ میں ایک موقع پر شام نے الزام عائد کیا کہ حزب اللہ نے سرحد پار کر کے شامی فوجی چوکیوں پر گولہ باری کی، جس کی حزب اللہ نے تردید کی۔ یہ کشیدگی وہیں ختم ہو گئی۔
ترکی کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے مارچ میں کہا تھا کہ ترکی نے اس کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔

الشرع نے کہا کہ حزب اللہ کا شام میں مداخلت کا فیصلہ ’غلط‘ تھا، لیکن وہ اس تنظیم کے ساتھ مکالمے کے لیے تیار ہیں اور لبنان میں مختلف دھڑوں کے درمیان حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مستقبل پر بات چیت میں بھی ثالثی کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی تجویز نے فرقہ وارانہ خدشات اور ماضی کی یادیں تازہ کر دیں
مارچ میں شام کے لیے امریکی نمائندے ٹام باراک نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ واشنگٹن نے شام کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا ہے۔
لیکن اس کے بعد ٹرمپ نے کھل کر یہ بات کہنا شروع کر دی۔
اسد حکومت کے خاتمے کے بعد کے مہینوں میں شامی صدر الشرع کے حامی اور مخالف گروہوں کے درمیان کئی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جو فرقہ وارانہ انتقامی حملوں میں بدل گئیں، جن میں سنی اسلام پسند جنگجوؤں نے علوی اور دروز شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں نے لبنان کی شیعہ، مسیحی اور دروز آبادی میں سرحد پار تشدد کے خدشات کو بڑھا دیا۔

لبنانی عوام کے ذہنوں میں شام کے طویل فوجی قبضے کی تلخ یادیں بھی تازہ ہیں، جو خانہ جنگی کے دوران شروع ہوا اور 2005 میں ختم ہوا۔
نام ظاہر نہ کرنے والے اہلکار کے مطابق اسرائیل کو بھی خدشہ ہے کہ شام دوبارہ لبنان کی سیاست میں اپنا پرانا کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی بنیادی تشویش اب بھی حزب اللہ ہی ہے۔












