Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی سولر پارک میں معدومیت کے خطرے سے دوچار غزالوں کی افزائش

شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو نے ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے عالمی سطح پر نئی مثال قائم کی ہے۔
رائل ریزرو میں ایک آپریشنل سولر پارک میں معدومیت کے خطرے سے دوچار صحرائی غزال کی افزائش کے پروگرام کا کامیاب آغاز کیا گیا ہے۔ سولر انرجی کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یکجا کیا گیا ہے۔
اس اقدام کو جسے ’ری وائلڈنگ وولٹیکس‘ کا نام دیا گیا جو 505 ہیکٹررقبے پر قائم  سولر پارک میں کام کرتا ہے۔ یہ سسٹین ایبل کمپنی فار انرجی کے اشتراک سے بنایا گیا۔ 250 میگاواٹ کی یہ فیسیلیٹی ریڈ سی گلوبل کی امالا سیاحتی منزل کو بھی سو فیصد صاف توانائی فراہم کرتا ہے۔
اکتوبر 2025 میں صحرائی غزال، پہاڑی غزال اور خرگوش کے ساتھ شروع کیے گئے سات ماہ کے آزمائشی مرحلے کے بعد، اس پروگرام نے مئی 2026 میں افزائشِ نسل کے مرحلے میں قدم رکھا۔ اس مرحلے میں 33 مادہ اور 5 نر، معدومیت کے خطرے سے دوچار غزالوں کو شمسی توانائی کے پلانٹ میں منتقل کیا گیا۔ توقع ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش دسمبر 2026 میں ہوگی۔
ریزرو کے اس مرکز میں 38 صحرائی غزال منتقل کیے گئے جن میں 33 مادہ اور پانچ نر شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سال 2031 تک یہاں منتقل کیے جانے والے غزال کی تعداد 600 تک پہنچ سکتی ہے۔ ریزرو کا مجموعی رقبہ 24 ہزار 500 مربع کلو میٹر ہے۔

رائل ریزرو ترقیاتی اتھارٹی کے سی ای او اینڈریو زالومس نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ایسی خود کفیل جنگلی حیات کی آبادی تشکیل دینا ہے جو مستقل انسانی مداخلت کے بغیر قدرتی ماحول میں پروان چڑھے۔
ان کے مطابق ’ری وائلڈنگ وولٹکس‘ ایک ایسا جدید ماڈل ہے جس میں شمسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جنگلی حیات کی افزائش اور بعد ازاں اسے قدرتی ماحول میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
واضح رہے شمسی پلانٹ صحرائی غزال کے لیے محفوظ افزائشی ماحول فراہم کرتا ہے۔ حفاظتی باڑ لگانے سے جانوروں کو شکاریوں سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے جبکہ شمسی پینلز کے سائے سے زمین کی سطح کا درجہ حرارت پانچ سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوا ہے جس سے جانوروں ک نگہداشت اور افزائش کی گنجائش 15 گنا بڑھ گئی۔

یہ اقدام عالمی ’کونمنگ مونیٹریال فریم ورک‘ اور سعودی گرین انیشیٹیو کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔
سعودی گرین انیشیٹیو کے تحت 2030 تک 30 فیصد زمینی اور سمندری علاقوں کو تحفظ دینے اور 50 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر ہے جبکہ ملک میں محفوظ علاقوں کا تناسب گزشتہ ایک دہائی میں 4.2 فیصد سے بڑھ کر 18.3 فیصد تک ہو چکا ہے۔

 

شیئر: