Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خطے کو درپیش خطرات: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اجتماعی دفاعی معاہدہ فعال کر دیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے پیر کو مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے جس میں درپیش خطرات کے پیش نظر مملکت میں مشترکہ افواج اور عسکری صلاحیتوں کی فوری تعیناتی شامل ہے۔
یہ فیصلہ اتحاد کی سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پیر کو ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں سکیورٹی کی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارت دفاع کے ایکس اکاونٹ پر اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا مکہ دفاعی اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے  پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
رکن ممالک نے تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ اتحاد کی ترقی اور اس کے اہداف کے حصول کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔
اجلاس میں شریک اتحاد کے رکن ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش، سعودی عرب کے شہروں اور شہری تنصیبات پر جاری حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی حملے یا خطرے کو مسترد کیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور بہترین تیاری کو سراہتے ہوئے مملکت کو درپیش خطرات اور حملوں کا پیشہ ورانہ مہارت اور غیرمعمولی صلاحیت کے ساتھ مقابلہ کرنے نیز اس کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کارکردگی کو قابل تحسین قرار دیا۔
کمیٹی نے اجلاس سے قبل ہونے والے سیاسی و عسکری مشاورتی اجلاسوں کے نتائج کا جائزہ بھی لیا اور سفارشات کی منظوری دی۔
کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ مکہ دفاعی اتحاد مشترکہ دفاع کے پختہ عزم اور خطرات کے مقابلے میں متحدہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔
کمیٹی نے مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملی اقدامات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور انہیں منظور شدہ انتظامات و رکن ملکوں کے قومی قوانین کے مطابق سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا فیصلہ کیا۔
ان اقدامات کا مقصد عسکری تیاری اور باہمی تعاون و عسکری انضمام کو مضبوط بنانا اور خطرات کا اجتماعی طورپر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کوموثر بنانا ہے۔
رکن ملکوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر رکن ملک کی سلامتی تینوں کی اجتماعی س کا فیصلہ کرتے ہوئےلامتی کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔

درپیش خطرات کے پیش نظر مملکت میں افواج اور عسکری صلاحیتوں کی فوری تعیناتی شامل ہے۔( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)

مکہ دفاعی اتحاد معاہدے کو عملی اقدامات میں ڈھالنا مشترکہ دفاع کے عزم کی ساکھ کو تقویت دینے کے ساتھ تینوں ممالک کے اتحاد اور اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ معاہدے کی دفعات کے مطابق اپنی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کریں گے۔
یہ اجلاس یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کے اعلان کے ایک روز بعد ہوا ہے۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور  چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)

قبل ازیں پاکستان کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ تینوں ممالک نے سات اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔
اجلاس میں حالیہ حوثی حملوں کے بعد ان کے ساتھ سفارتی رابطے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ پاکستان کے مطابق ایران نے حوثیوں کے ساتھ سفارتی طور پر بات چیت کی تجویز دی ہے۔

 

شیئر: