شدید گرمی سے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کو خطرات لاحق: اقوام متحدہ
شدید گرمی سے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کو خطرات لاحق: اقوام متحدہ
پیر 5 اکتوبر 2026 6:20
اقوام متحدہ کے موسمیاتی امور کے سربراہ سائمن سٹیل کوپ کانفرنس ایک نئی تحقیق پیش کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کے موسمیاتی امور کے سربراہ سائمن سٹیل نے کہا ہے کہ سخت گرمی حاملہ خواتین اور نومولودوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ آج موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے فجی کے شہر نادی میں ہونے والی ’پری کوپ‘ کانفرنس سے خطاب میں ایک نئی تحقیق کا حوالہ دیں گے۔
اس تحقیق کے مطابق پانچ براعظموں میں صحت کے شعبے سے وابستہ دو تہائی سے زائد افراد نے پچھلے پانچ برس کے دوران خواتین اور بچوں میں پیدا ہونے والی ایسی طبی پیچیدگیوں کا مشاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سخت گرمی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث حمل کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے قبل از وقت پیدائش، مردہ بچے کی پیدائش، کم وزن والے بچے کی پیدائش اور ماں کی صحت کی پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
سائمن سٹیل نے صورت حال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرمی میں اضافے کے ساتھ زچہ بچہ کے لیے جنم لینے والے مسائل عالمی موسمیاتی بحران کا ایک نیا خطرناک پہلو بن چکے ہیں، جو جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موسم سے جڑے حالات کو خطرناک بنا رہی ہے اور گرمی کے ریکارڈ پہلے سے زیادہ تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں۔
نئی تحقیق میں ایک ہزار ڈاکٹروں اور میٹرنٹی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں سے بات کی گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق کوپرنیکس کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس سال قریباً 33 ممالک میں جولائی انتہائی گرم رہا۔ ان ممالک میں مغربی یورپ اور وسطی امریکہ کے ممالک شامل ہیں۔
اس تحقیق کا اہتمام فلاحی ادارے ویلکم کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں برطانیہ، آسٹریلیا، برازیل اور زمبابوے کے ایک ہزار ڈاکٹروں اور میٹرنٹی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں سے معلومات لی گئی ہیں۔
ویلکم کی چیئرپرسن اور آسٹریلیا کی سابق وزیراعظم جولیا گیلرڈ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ماؤں اور بچوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
’شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے اور اس معاملے میں حاملہ خواتین کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، رہنماؤں کے پاس اس بارے میں ضروری شواہد اور حل موجود ہیں ان کو اب حرکت میں آنا ہو گا۔‘
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موسم سے جڑے حالات کو خطرناک بنا رہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تحقیق کے مطابق تقریباً تمام ڈاکٹروں اور میٹرنٹی شعبے سے وابستہ کارکنوں نے ایسی ماؤں یا بچوں کا علاج کیا جنہیں شدید گرمی کے اثرات کا سامنا تھا۔
ان میں سے قریباً ایک تہائی کا کہنا تھا کہ انہوں نے شدید گرمی کے باعث کم وزن یا نشوونما میں کمی، بچوں کو دودھ پلانے میں مشکلات اور پانی کی کمی یا گرمی سے ہونے والی بیماریوں کے کیسز دیکھے۔
رپورٹ کے مطابق سائمن سٹیل کانفرنس کے شرکا کو یہ بھی بتائیں گے کہ حمل ایک امید کا لمحہ ہونا چاہیے لیکن یہ لاکھوں خواتین کے لیے پریشانی کا وقت بنتا جا رہا ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں روزمرہ زندگی کے لیے خطرات بڑھا رہی ہیں۔
فجی اور بحرالکاہل کے دور دراز مرجانی جزیرے تووالو میں ہونے والی پری کوپ 31 کانفرنس کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطے کی مشکلات دنیا کے سامنے لانے کا ایک موقع سمجھا جا رہا ہے۔