امریکہ نے برطانوی ایئر بیس سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے
امریکہ نے برطانوی ایئر بیس سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے
پیر 5 اکتوبر 2026 17:22
اتوار کو بھی بی-1 بمبار طیاروں کی ایک بڑی تعداد کو اس اڈے سے پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا (فوٹو: اے پی)
امریکی فضائیہ نے انگلینڈ میں قائم امریکہ کے زیرانتظام ایک فوجی اڈے پر تعینات اپنے بمبار طیارے واپس امریکہ منتقل کر دیے ہیں۔ یہ وہ ہوائی اڈا ہے جہاں سے ایران پر حملوں کے لیے بمبار طیارے آپریٹ کیے جا رہے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت برطانوی فضائی اڈے ’آر اے ایف فیئرفورڈ‘ پر ممکنہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق بمبار طیاروں کو واپس امریکہ میں اِن کے اپنے اڈوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ عہدیدار نے حساس فوجی نقل و حرکت پر بات کرنے کا مجاز نہ ہونے کے باعث اتوار کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
’ملٹری ایئر ٹریکنگ الائنس‘ جیسے ہوا بازی پر نظر رکھنے والے گروپس نے ایران جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی آر اے ایف فیئرفورڈ سے درجنوں بی-52 اور بی-1 بمبار طیاروں کو آپریٹ ہوتے دیکھا ہے۔ مبصرین نے اتوار کو بھی بی-1 بمبار طیاروں کی ایک بڑی تعداد کو اس اڈے سے پرواز کرتے دیکھا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں نئے فضائی حملے بھی شامل ہیں۔
یہ ان کے اس ابتدائی وعدے کے برعکس ہے جس میں انہوں نے امریکی عوام سے کہا تھا کہ یہ فوجی مہم صرف چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کو وائٹ ہاؤس سے اوہائیو میں ایک ریلی کے لیے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے بارے میں مجھے کچھ فیصلے کرنے ہیں۔ ایران تباہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اب صرف ایک سوال ہے یا تو راستہ آسان ہوگا یا مشکل۔‘
گزشتہ ہفتے وسطی لندن میں برطانوی اور ایرانی شہریت رکھنے والے ایک شخص کو دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری ستمبر کے اوآخر میں آر اے ایف فیئرفورڈ میں پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے کے بعد عمل میں آئی۔ تحقیقات کے دوران مجموعی طور پر چھ افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
برطانوی حکام نے اس واقعے کا تعلق ایران سے جوڑا ہے، تاہم ایران نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
آر اے ایف فیئرفورڈ مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری مختلف تنازعات کے دوران امریکی بمبار طیاروں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
لندن سے 100 میل (160 کلومیٹر) مغرب میں واقع آر اے ایف فیئرفورڈ مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری مختلف تنازعات کے دوران امریکی بمبار طیاروں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
امریکی فوج کی مشرقِ وسطیٰ میں اب بھی بڑی تعداد میں موجودگی برقرار ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے جمعرات کو بتایا کہ حال ہی میں خطے کی جانب روانہ کیا گیا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ، اور یو ایس ایس مالکن آئی لینڈ کی سربراہی میں بحری جنگی گروپ بھی خطے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس گروپ میں شامل بحری جہازوں پر مجموعی طور پر 7 ہزار سے زیادہ ملاح اور 2 ہزار میرینز موجود ہیں۔
عہدیدار کے مطابق اس بحری نقل و حرکت کے باعث اکتوبر کے آخر تک خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد تین تک پہنچ سکتی ہے۔