ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ملاقات میں اعادہ
ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ملاقات میں اعادہ
منگل 28 جولائی 2026 22:35
اس ملاقات میں صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران تنازعے کے حوالے سے اختلافات کم کرنے کی کوشش کی (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات کی۔
یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 2025 کے اوائل میں دوبارہ صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مجموعی طور پر آٹھویں ملاقات تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایران کے تنازعے کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی۔
بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ خطے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات میں فرق کے باعث ان کے اور صدر ٹرمپ کے درمیان کچھ اختلافات موجود رہے ہیں۔
رواں برس جون میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک تلخ ٹیلی فونک گفتگو میڈیا میں لیک ہوئی تھی جس کی بعد میں خود صدر ٹرمپ نے بھی تصدیق کی تھی۔
اس واقعے نے دونوں اتحادی رہنماؤں کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کو واضح کر دیا تھا۔
اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ لڑائی میں حصہ نہیں لیا، جو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد رواں ماہ دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں برس اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں قومی انتخابات جبکہ نومبر کے شروع میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ ملاقات ’امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی بہترین ملاقاتوں میں سے ایک‘ تھی۔
اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو میں بنیامین نیتن یاہو نے اس ملاقات کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر اتفاق کے ساتھ ہوئی کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’وائٹ ہاؤس میں قریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں میڈیا کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔‘
بنیامین نیتن یاہو کے مطابق ’اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی پوری اعلٰی ٹیم اور اعلٰی اسرائیلی قیادت بھی موجود تھی‘ (فوٹو: اے ایف پی)
بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی پوری اعلٰی ٹیم اور اعلٰی اسرائیلی قیادت بھی موجود تھی، اور یہ اسرائیل کی سلامتی اور مستقبل سے متعلق اہم معاملات پر تبادلہ خیال اور باہمی ہم آہنگی کا بہترین موقع تھا۔‘
ملاقات کے اختتام پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے بنیامین نیتن یاہو اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقاتیں کی ہیں، اور دونوں ملاقاتیں مثبت اور نتیجہ خیز رہیں۔
یاد رہے کہ اپریل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی پر مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جب امریکی صدر نے اپنے اسرائیلی اتحادی پر سخت تنقید کی تھی۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں انہوں نے بنیامین نیتن یاہو کو ’بہت مشکل انسان‘ قرار دیا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا ان اختلافات کو ’حکمتِ عملی سے متعلق عارضی اختلافات‘ قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘ہمارا جنگ کے مقاصد پر مکمل طور پر اتفاق ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی یہ کہا گیا کہ جب تک امریکہ کارروائیاں معطل رکھے گا، وہ بھی اپنے حملے روکے رکھے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا حملہ سخت اسرائیلی ردِعمل کا سبب بنے گا۔