Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ملاقات میں اعادہ

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی ملاقات کی۔
یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 2025 کے اوائل میں دوبارہ صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مجموعی طور پر آٹھویں ملاقات تھی۔ 
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایران کے تنازعے کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی۔
اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ لڑائی میں حصہ نہیں لیا، جو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد رواں ماہ دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں برس اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں قومی انتخابات جبکہ نومبر کے شروع میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ ملاقات ’امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی بہترین ملاقاتوں میں سے ایک‘ تھی۔
اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو میں بنیامین نیتن یاہو نے اس ملاقات کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر اتفاق کے ساتھ ہوئی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔‘
اسرائیلی وزیراعظم نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’وائٹ ہاؤس میں قریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں میڈیا کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔‘
بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی پوری اعلٰی ٹیم اور اعلٰی اسرائیلی قیادت بھی موجود تھی، اور یہ اسرائیل کی سلامتی اور مستقبل سے متعلق اہم معاملات پر تبادلہ خیال اور باہمی ہم آہنگی کا بہترین موقع تھا۔‘

شیئر: