Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی وفد سے میٹنگ کے لیے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ جائیں گے: امریکہ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی تھی اور یہ ملاقات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منگل کے روز دوحہ میں ہوگا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے، جبکہ ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان پسِ منظر میں تکنیکی مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی تھی اور یہ ملاقات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کچھ ہی دیر بعد صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے لیے دوحہ روانہ ہوں گے، جہاں ہم مفاہمتی یادداشت پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ساتھ ساتھ تکنیکی بات چیت بھی ہوگی۔‘
کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ ’جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم جنگ بندی کے اپنے حصے پر قائم ہیں۔ تشدد کا جواب تشدد سے ہی دیا جائے گا۔‘
امریکہ اور ایران نے 17 جون کو 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد چار ماہ سے جاری تنازع ختم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقوں نے جنگ روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔
تاہم، ہفتے کے اختتام پر ہونے والے جوابی حملوں نے اس نازک معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا۔ مذاکرات کی بحالی ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب جمعرات کو آبنائے میں ایک ایرانی میزائل ایک مال بردار جہاز سے ٹکرانے کے بعد دونوں جانب سے کئی روز تک حملے اور جوابی حملے جاری رہے، اور امریکہ و ایران ایک دوسرے پر عبوری جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے۔
کیرولین لیویٹ نے ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ نامی پروگرام میں کہا کہ ’تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے، جن کا جواب امریکی صدر کی ہدایت پر دیا، اور یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ صدر واضح طور پر چاہتے ہیں کہ امن عمل آگے بڑھے۔‘

شیئر: