Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حکومتی کٹھ پتلی مستعفی ہوں‘، انڈیا میں اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج

احتجاج کے موقع پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو حراست میں بھی لیا گیا تاہم بعدازاں رہا کر دیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں اور کاکروچ تنظیم کی جانب سے حکومت اور الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی مارچ ہوا ہے جس میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی شریک ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹرز تک ہونے والے اس احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو گرفتار کیا گیا تاہم بعدازاں چھوڑ دیا گیا۔
مظاہرین الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے نے موقع پر موجود اپنے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی ایک رکاوٹ کے اوپر کھڑے ہو کر پرچم لہرا رہے تھے جب پولیس نے انہیں اور بعض دیگر ارکان کو حراست میں لیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی مخالف جماعتوں اور نوجوانوں کی تنظیم ’کاکروچ‘ کے کارکن احتجاج میں شریک ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس احتجاج کو مودی حکومت کے لیے ایک اور سیاسی چیلنج سمجھا جا رہا ہے اور اس وقت وہ اپنی مدت حکومت کے درمیانی عرصے میں ہیں۔

پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک کے راستے پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

چند ماہ قبل ہی ان کو ایسے ہی ایک احتجاج کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا رہا تھا جو کہ کاکروچ تنظیم کے کارکنوں نے شروع کیا تھا، اپنا مطالبہ منوانے میں کامیاب رہے تھے اور وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
گیانیش کمار کو مودی حکومت نے ہی مقرر کیا ہے جبکہ پچھلے ماہ انڈین ایکسپریس نے الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی سٹوری چھاپی تھی جہاں سے یہ معاملہ شروع ہوا۔
ووٹر فہرستوں اور ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار پر سامنے آنے والے اختلافات نے الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پر خدشات پیدا کیے ہیں۔
اپوزیشن ارکان نے ’جمہوریت بچاؤ‘ کا ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹرز کی طرف مارچ کیا۔

ریلی میں کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی بھی شریک ہوئیں (فوٹو: اے ایف پی)

الیکشن کے آغاز پر کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن خارگے نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن حکومت کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے اور ہم جمہوریت کو بچانے کے لیے نکلے ہیں۔
دوسری جانب انڈین سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس نے فارم چھ کے کسی ترمیم شدہ ورژن کی منظوری نہیں دی جبکہ وہ الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھے گی تاکہ پتہ چل سکے کہ فارم میں کوئی تبدیلی تو نہیں کی گئی اور اگر اس میں تبدیلی ہوئی ہے تو اسے کس نے منظور کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جانچ کے لیے فارم چھ کے ساتھ منسلک حلف نامے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کے تحت مقررہ فارم استعمال کیے جائیں گے۔

شیئر: