Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے دو واقعات میں پانچ افراد ہلاک

پہلا واقعہ بائی پاس پر جبکہ دوسرا تھانہ یونیورسٹی کی حدود میں پیش آیا (فوٹو: ریسکیو 1122)
خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو ہونے والے دہشت گردی کے دو واقعات میں تین سرکاری ملازمین اور دو عام شہری جان سے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پہلے حملے میں نامعلوم مسلح افراد نے یونیورسٹی روڈ پر بھٹی پمپ کے قریب فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دو اہلکاروں کے علاوہ دو شہری بھی ہلاک ہو گئے۔
ایف بی آر کے مطابق چیک پوسٹ پر ہلاک ہونے والوں میں کسٹمز کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔
ریسکیو 1122 نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موقع سے چار افراد کی لاشیں تحویل میں لے کر ان کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا گیا۔
اسی طرح ایک اور واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے بائی پاس پر ہائی وے پولیس کی موبائل وین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک جبکہ گشت پر مامور افسر اور ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔
واقعات کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں مقامات کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے، فوری طور پر کسی گروپ نے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پیر کو بتایا گیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

ایف بی آر کے مطابق چیک پوسٹ پر ہلاک ہونے والوں میں کسٹمز کے دو اہلکار بھی شامل تھے (فوٹو: ریسکیو 1122)

عرب نیوز کے مطابق اس سے ایک روز قبل حکام نے آٹھ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی جن میں تین کمانڈر بھی شامل تھے۔
26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے امن میلے میں ایک چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا جبکہ اس کے بعد فائرنگ بھی کی گئی، اس میں 12 افراد کی ہلاکت اور 35 کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جن کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ لگتی ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی کافی عرصے سے سخت کشیدگی پائی جاتی ہے، اسلام آباد کابل پر ٹی ٹی پی کے کارکنوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جبکہ افغان حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔
چند روز پیشتر ہی پاکستان نے افغانستان میں ہلمند اور کنڑ کے بعض علاقوں پر فضائی حملے کیے تھے۔

شیئر: