سندھ میں گیس کی نئی دریافت، ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں کتنی مددگار ثابت ہوگی؟
بدھ 19 اگست 2026 8:15
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان میں جہاں قدرتی گیس کے درپیش بحران اور ذخائر میں تیزی سے ہوتی کمی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے سندھ میں گیس کی نئی دریافت کا اعلان کیا ہے۔
یہ دریافت ضلع سجاول کے سرانی بلاک میں واقع ڈولفن X-1 کنویں سے ہوئی ہے، جسے ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے دلدلی اور کم گہرائی والے سمندری خطے کے مشکل جغرافیائی حالات میں جراسک دور کی چلتن فارمیشن سے کامیابی حاصل کی ہے۔
پی پی ایل کے مطابق 3 ہزار 850 میٹر کی گہرائی تک کی گئی اس کُھدائی اور جانچ کے دوران 32/64 انچ چوک سائز پر 0.942 ایم ایم ایس سی ایف یومیہ کی شرح سے اعلٰی معیار کی گیس حاصل ہوئی۔ اس منصوبے میں پی پی ایل 75 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ 25 فیصد کی شراکت دار ہیں۔
واضح رہے کہ سرکاری دستاویزات اور توانائی سے متعلق اداروں کی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر میں سالانہ قریباً 9 سے 10 فیصد کی شرح سے تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق اگر نئے بڑے ذخائر دریافت نہ ہوئے اور موجودہ پیداواری رفتار جاری رہی تو آئندہ 10 سے 12 برسوں کے دوران ملکی قدرتی گیس کے موجودہ ذخائر شدید بحران کا شکار ہو کر ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔
فی الوقت ملکی پیداوار مقامی طلب کا نصف سے بھی کم حصہ پُورا کرتی ہے، جبکہ باقی خلا کو مہنگی درآمدی ایل این جی کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
پہلی بار ہائیڈروکاربن گیس۔ نئی گیس کی دریافت کے حوالے سے ہم مزید کیا جانتے ہیں؟
پی پی ایل کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئی دریافت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ لوئر انڈس بیسن کی چلتن فارمیشن سے پہلی بار ہائیڈروکاربن کے ذخائر ملے ہیں۔
’اس سے قبل دُشوارگزار جغرافیائی صورتِ حال کے باعث اس زون سے گیس کا حصول ناممکن تصور کیا جاتا تھا، لیکن پی پی ایل نے جدید تکنیک اور 2 ڈی و 3 ڈی سائزمک ڈیٹا کے ذریعے اس مشکل خطے کو ایک فعال پیٹرولیم بلاک میں تبدیل کر دکھایا ہے۔‘
پی پی ایل کا مزید کہنا ہے کہ اس کنویں یعنی ڈولفن X-1 کی کُھدائی رواں برس 17 اپریل کو شروع کی گئی تھی، جس کے بعد وائر لائن لاگز کے ذریعے گیس والے زون کی نشان دہی کی گئی۔
ٹیسٹنگ کے دوران 211 پی ایس آئی جی پریشر اور 1000 بی ٹی یو حرارتی صلاحیت رکھنے والی گیس حاصل ہوئی، جسے معاشی و صنعتی لحاظ سے انتہائی اعلٰی معیار کا شمار کیا جاتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اس آپریشن کی کامیابی میں لاجسٹک اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی بحریہ کا تعاون بھی شامل رہا، کیونکہ یہ علاقہ ساحلی اور دلدلی حد بندیوں کے قریب واقع ہے۔
’اگرچہ ابتدائی انجینیئرنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ریزروائر کی نوعیت ’ٹائٹ‘ ہے، تاہم جی اینڈ جی اور ریزروائر انجینیئرنگ کے مزید تفصیلی جائزوں سے اس کنویں کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت کا حتمی تخمینہ لگایا جائے گا۔‘
دوسری جانب گیس کی اس نئی دریافت کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ پیش رفت ملک کو درپیش توانائی کے شدید بحران سے نکالنے میں واقعی مددگار ثابت ہو سکے گی یا نہیں؟
توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دریافت کو صرف گیس کے حجم کے ترازو میں تولنے کے بجائے اس کی ارضیاتی اور تکنیکی اہمیت کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ڈولفن X-1 کنوئیں سے حاصل ہونے والی گیس کی شرح 0.942 ایم ایم ایس سی ایف ڈی ہے، جسے فنی لحاظ سے ایک ’محدود یا چھوٹی دریافت‘ شمار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں گیس کی کل یومیہ طلب قریباً چار ہزار ایم ایم ایس سی ایف ڈی کے قریب ہے جبکہ مقامی پیداوار کم ہو کر 2 ہزار 800 ایم ایم ایس سی ایف ڈی سے بھی نیچے آچکی ہے۔
اس تناظر میں ایک ایم ایم ایس سی ایف ڈی سے بھی کم کی یہ دریافت ملکی سطح پر گیس کی قلت دُور کرنے یا مہنگی ایل این جی کی در آمدات کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اگرچہ اس دریافت سے ملنے والی گیس کا حجم محدود ہے، تاہم ماہرینِ توانائی اسے پاکستان کے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے لیے ایک بڑی ارضیاتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ یہ لوئر انڈس بیسن کی ’چلتن فارمیشن‘ سے ہائیڈروکاربن کی ملنے والی پہلی کامیابی ہے۔
اس سے قبل دلدلی اور کم گہرائی والے ساحلی علاقوں کو شدید ارضیاتی پیچیدگیوں کے باعث کھدائی کے لیے نااہل یا انتہائی دُشوار سمجھا جاتا تھا۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ پی پی ایل کی جانب سے جدید 2 ڈی اور 3 ڈی سائزمک ٹیکنالوجی کے کامیاب استعمال نے اس زون میں ایک فعال پیٹرولیم نظام کی موجودگی کو ثابت کر دیا ہے، جس سے دیگر کمپنیوں کے لیے بھی اس بیلٹ میں ڈرلنگ اور نئی دریافتوں کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
