Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا روز، ’کوشش ہے مسائل جمہوری انداز میں حل ہوں‘

پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور آج پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔
دونوں اطراف کے رہنما پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں سپیکر چیمبر میں مذاکرات کے لیے سہ پہر تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔
حکومتی کمیٹی کے اہم ارکان اور وفاقی وزراء (جن میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، انجینئر امیر مقام اور شیری رحمان شامل ہیں) کے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔
اس سے قبل مذاکرات کے ماحول کے بارے میں صحافیوں کے سوال پر وفاقی وزیر انجینیئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ ’امید رکھنی چاہیے اور ناامید نہیں ہونا چاہیے۔‘
حکومتی وفد کی رکن اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ تمام مسائل جمہوری انداز میں حل ہوں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی میز پر جگہ دینے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ تنازعات کو زیر غور لایا جائے، تاہم ہر کوئی اپنی پارٹی پوزیشن پر بات کر سکتا ہے مگر مذاکرات کی اندرونی باتوں پر عام گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔
سہیل آفریدی  کے موقف پر طارق فضل کا ردعمل
ایک طرف جہاں پارلیمنٹ میں مذاکرات کا عمل جاری ہے، وہیں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے اپنے سخت سیاسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت ہے اور آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے لیے چار اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے پُرامن احتجاج کا آغاز کیا جائے گا۔‘
انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور وفاق کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ملٹری آپریشنز مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران خطہ سیاحت کے لیے جانا جاتا تھا نہ کہ دہشت گردی کے لیے۔‘
سہیل آفریدی کے اس بیان پر حکومتی وفد کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر سہیل آفریدی کی پوسٹ پر اپنے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت مذاکرات کو بامقصد بنانا چاہتی ہے لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایسے بیانات اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘
طارق فضل چوہدری نے تحریک انصاف کی قیادت پر زور دیا کہ ’مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے اجتناب کیا جائے جس سے یہ عمل نقصان کا شکار ہو۔‘

شیئر: