Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں ’آئینی ایٹم بم‘ کے استعمال سے پہلے سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا ذہن بنا لیا تھا تاہم انہوں نے اس شدید قدم سے پہلے سیاسی حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔
سنیچر کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا ذہن بنا لیا تھا، میرا خیال تھا کہ اس ’آئینی ایٹم بم‘ کے استعمال سے پہلے سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے۔‘
انہوں نے واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے میں ساتھ نہ دیا تو مجبوراً ایمرجنسی یا گورنر راج لگانا پڑے گا۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن کو متحد ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان کی سر زمین سے ہونے والی دہشت گردی میں انڈیا کا ہاتھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور اس فتنے کا مقابلے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔‘
تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت پر سندھ کے حقوق کی تلفی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’وفاق نے کراچی کے ساتھ کیے گئے وعدے توڑے ہیں اور حیدرآباد-سکھر موٹروے کے معاملے پر بھی مایوس کیا ہے۔‘
پانی کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’1991 کے معاہدے اور ارسا کے طے شدہ فارمولے کے مطابق سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ سندھ کی اجازت کے بغیر بنائے جانے والے منصوبے صوبے کے لیے نئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔‘
وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم نے ’شہباز سپیڈ‘ کا نعرہ سن رکھا ہے لیکن اب کراچی کے ’کے-فور‘ واٹر پروجیکٹ میں اس سپیڈ کی شدید ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو پانی کا حق مل سکے۔‘
’سندھ کے عوام کو پہلے حق سے محروم کیا جاتا ہے اور پھر ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔‘

 

شیئر: